تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 72

خیالات سے ہی متاثر تھا جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسلام کے خلاف بہت بڑا فتنہ برپا کیا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چوبیس ۲۴سال بعد جب ابھی ہزارہا صحابہؓ موجود تھے شیعہ اور سنّی کا نزاع شروع ہو گیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبًا ۳۲ سال بعد خوارج پیدا ہو گئے۔یہ شیعہ سُنّی اور خوارج تینوں قرآن کریم پر ایمان رکھتے تھے اور اس وجہ سے تینوں ایک دوسرے کے رقیب اور نگران بن گئے جو قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کا ایک عظیم الشان ذریعہ ثابت ہوا۔پھر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے شیعوں میں یہ خیال بھی پیدا کر دیا کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ حضرت علیؓ کے پاس تھا مگر انہوں نے اس کو ظاہر نہ کیا۔اب وہ حصہ امام غائب کے پاس ہے جب وہ ظاہر ہوں گے تو قرآن کریم کا وہ حصہ بھی اپنے ساتھ لائیں گے اب دیکھو یہ کیسی عجیب بات ہے کہ شیعہ قرآن کریم پر حملہ کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا ایک حصہ امام غائب کے پاس ہے مگر اس کے باوجود وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ قرآن کریم میں سے کوئی ایک آیت بھی کم نہیں۔بلکہ لفظ بلفظ یہ وہی کلام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا۔باقی رہا ان کا یہ کہنا کہ قرآن میں سے دس پارے غائب ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دس پارے قرآن کریم میں نہیں ہیں تو اس کا لازمًا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم احکام شرعی کے لحاظ سے مکمل کتاب نہیں بلکہ اس میں ابھی کئی قسم کے نقائص ہیں۔کیونکہ دس پارے جو غائب ہیں ان میں بھی آخر اللہ تعالیٰ کے احکام ہوں گے۔اور جب کہ وہ پارے اس قرآن کے ساتھ شامل نہیں تو لازمًا اس میں کمی پائی جائے گی۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سے احکام ہیں جو قرآن کریم میں موجود نہیں ہیں۔آخر دس پاروں کے غائب ہونے کے نتیجہ میں چاہیے تھا کہ بعض مذہبی مسائل نامکمل رہتے۔بعض تمدنی مسائل حل نہ ہوتے۔بعض عبادات سے تعلق رکھنے والی تعلیمیں اس میں موجود نہ ہوتیں۔مگر ہمیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ کوئی ایک مذہبی تعلیم بھی نہیں ہے جو قرآن کریم میں موجود نہ ہو۔کوئی ایک تمدنی مسئلہ بھی نہیں ہے جسے قرآن کریم نے حل نہ کیا ہو اور عبادات سے تعلق رکھنے والی کوئی ایک تعلیم بھی نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان نہ کیا ہو۔یہ قرآن اپنی تعلیم اور اپنے احکام اور اپنے اوامر اور اپنے نواہی کے لحاظ سے ہر طرح کامل ہے کسی قسم کا نقص اس میں پایا نہیں جاتا اور جب صورت حالات یہ ہے تو یہ کہنا کہ دس پارے غائب ہیں کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتا اگر دس پارے غائب ہوتے تو ضروری تھا کہ مسائل اسلامیہ میں کمی آ جاتی مگر ہمیں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔اور نہ شیعہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ موجودہ قرآن میں کسی قسم کی کمی پائی جاتی ہے یا کوئی ضروری بات اس میں بیان ہونے سے رہ گئی ہے۔اور جب کہ وہ بھی موجودہ قرآن کے کامل ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور ساتھ ہی کسی قسم کی کمی بیشی نہیں