تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 3

بہرحال دو حالتیں ہو ں گی یا یہ کہ عبارت میں ایک معنی مراد لئے گئے ہیں اور یا یہ کہ ایک سے زیادہ معنے مراد لئے گئے ہیں۔پھر جہاں ایک سے زیادہ معنے لئے گئے ہوں ان میں سے بھی سارے معنے لئے جا سکیں گے اور کبھی یہ ہو گا کہ بعض لئے جا سکیں گے اور بعض نہیں۔پھر جہاں صرف ایک معنی مراد لئے گئے ہوں وہاں بھی دو صورتیں ہوں گی کبھی ایک معنے اتنے واضح ہوں گے کہ عبارت سے صاف ثابت ہو گا کہ یہی معنے اس جگہ چسپاں ہو سکتے ہیں۔اور کبھی وہ معنے اتنے واضح نہیں ہوں گے اور اس کے لئے کسی اشارہ کی ضرورت ہو گی۔قرآن کریم میں جس جگہ کسی لفظ کے ایک معنے لینے ہوں دوسرے نہ لینے ہوں وہاں مَاۤ اَدْرٰىكَ کا لفظ آتا ہے۔گویا ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں مگر مَاۤ اَدْرٰىكَ کے الفاظ کے بعد ایک معنی بتا کر اللہ تعالیٰ یہ بتا دیتا ہے کہ ہم اس جگہ اس سے یہ خاص معنے مراد لیتے ہیں یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ جہاں مَاۤ اَدْرٰىكَ کا لفظ نہیں آتا وہاں ہمارا حق ہے کہ ہم اس کے کئی معنے کریں ورنہ وجہ کیا ہے کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ معنوں کو محدود کر دیتا ہے اور دوسری جگہ محدود نہیں کرتا اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ایک لفظ کے کئی کئی معنے کرنا قرآن کریم کے اصول کے خلاف نہیںہاں جس جگہ وہ خود معنوں کو محدود کر دے وہاں ہمارا حق نہیں کہ ہم ان معنوں کو ترک کر کے کوئی اور معنے کریں۔پس وہ لوگ جو ہماری تفسیر پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ ہم کیوں ایک لفظ کے کئی کئی معنے جو لغت سے ثابت ہوتے ہیں کرتے ہیں ان کا یہ اعتراض قلتِ تدبّر اور قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ میں مَاۤ اَدْرٰىكَ کہہ کر لفظ طارق کے معنی کی تعیین یہاں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ۔النَّجْمُ الثَّاقِبُ۔اگر مَاۤ اَدْرٰىكَ کا لفظ یہاں نہ ہوتا تو کوئی کہہ دیتا کہ طارق سے مراد یہاں رات کو آنے والا ہے، کوئی کہہ دیتا کہ یہاں طارق سے کاہن مراد ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے معنے کو محدود کرتے ہوئے فرما دیا وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ تمہیں کس نے بتایا کہ طارق کون ہے یعنی تمہارے پاس اس لفظ طارق کا صحیح مفہوم سمجھنے کا کوئی ذریعہ نہیں اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ عرب لوگ طارق کے معنے نہیں جانتے تھے یہ عربی کا لفظ ہے اور اہل عرب جانتے تھے کہ طارق کے کیا کیا معنے ہیں۔طارق سے مراد صبح کا ستارہ پس مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ کا بجز اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ طارق کے کئی معنوں میں سے تم کو کس طرح پتہ لگ سکتا ہے کہ ہم اس جگہ طارق کے کون سے معنے مراد لے رہے ہیں اس لئے ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ النَّجْمُ الثَّاقِبُ ہماری مراد یہاں طارق کے لفظ سے صبح کا ستارہ ہے۔سورۂ طارق کا تعلق سورۂ بروج سے اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میں اور