تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 63

مزید برآں یہ کہ تاریخی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا کہ یہودیوںمیں تورات کو حفظ کرنے کا رواج ہو۔بلکہ آج تک بھی یہود میں تورات کو حفظ کرنے کا عام رواج نہیں۔اور جبکہ ان میں حفظ کا رواج ہی نہیں تھا یہ کیونکر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے دوبارہ تورات کو لکھا تھا انہوں نے اسے صحیح طور پر ہی لکھا تھا۔تورات کی دوبارہ تدوین یہود کی جلا وطنی کے ایک لمبے عرصے بعد ہوئی ہے۔بخت نصر یہود کو قید کر کے بابل لے گیا تھا اور وہاں اس نے ایک مدت تک ان کو اپنی غلامی میں رکھا۔یہ مدت قریباً ساٹھ ستّر سال بنتی ہے (دیکھو تاریخ بائیبل مصنفہ پادری ولیم جی بلیکی صاحب۔ڈی ڈی صفحہ ۴۰۱ ) اس کے بعد جب سائرس فارس اور مید کے بادشاہ کا زور ہوا تو اس کے ساتھ یہود نے خفیہ سمجھوتہ کیا اور اس کے حملہ آور ہونے پر اندر سے اس کی مدد کی۔جس کی وجہ سے وہ بابل پر بہت جلد قابض ہو گیا۔اس کے بعد انعام کے طور پر اس نے بنی اسرائیل کو اپنے ملک کی طرف واپس جانے کی اجازت دے دی۔اس وقت عزرا نبی کا زمانہ تھا اور انہی کے زمانہ میں دوبارہ تورات لکھی گئی۔یہ سارا عرصہ قریبًا سو سال کا بنتا ہے اور ہر شخص قیاس کر سکتا ہے کہ اس عرصہ میں کتنے لوگ زندہ رہے ہوں گے اور کتنے مر چکے ہوں گے۔بخت نصر کے حملے اور عزرا نبی کے زمانہ میں سو سال کا جو وقفہ ہے اس میں اگر یہود کو تورات حفظ ہوتی تب بھی اتنے لمبے عرصہ کے بعد اس کا دوبارہ لکھا جانا یقینی نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔کیونکہ بہت سے لوگ مر چکے ہوں گے۔لیکن ان میں تو حفظ کا رواج ہی نہیںتھا اس لئے انہوں نے جو کچھ لکھا قیاسی اور خیالی طور پر لکھا۔تورات کے مٹنے کے متعلق اس کی اندرونی شہادت چنانچہ اس کا ثبوت بائیبل سے ہی اس رنگ میں ملتا ہے کہ پہلے تو یہ ذکر آتا ہے کہ موسٰی سے خدا نے یہ کہا اور موسٰی کو خدا نے یہ حکم دیا۔مگر اس کے بعد لکھا ہے:۔’’سو خدا وند کا بندہ موسٰی خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا اور موسٰی اپنے مرنے کے وقت ایک سو بیس برس کا تھاکہ نہ اس کی آنکھیں دھندلائیںاور نہ اس کی تازگی جاتی رہی۔‘‘ (استثناءباب۳۴ آیت ۵تا ۷) اب کیا کوئی شخص تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ موسٰی سے کہہ رہا ہے کہ پھر موسٰی مر گیا اور اسے موآب کی ایک وادی میں گاڑا گیا۔مگر اب اس کی قبر کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔صاف پتہ لگتا ہے کہ موسٰی کی وفات کے بعد کسی شخص نے یہ حالات لکھے ہیں اور اس وقت لکھے ہیں جب کہ موسٰی کی قبر کا بھی لوگوں کو علم نہیں رہا تھا کہ وہ کہاں گئی۔آخر