تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 62

قید رہے۔اس اسیری کے بعد وہ رہا ہوئے۔اور حضرت عزیرؑ جن کی کتاب پرانے عہد نامہ میں پائی جاتی ہے انہوں نے اس کتاب کی تدوین دیگر احباب سمیت کی اور اپنی یادداشت کی بنا پر اسے لکھا۔حضرت عزیرؑ کے نام سے ایک اور کتاب عیزڈراس ESDRAS یونانی زبان میں موجود ہے۔جو حضرت عزیرؑ کی اس کتاب کے علاوہ ہے جو پرانے عہد نامہ میں پائی جاتی ہے۔اگرچہ یہ کتاب موجودہ بائیبل کی کتابوں میں شامل نہیں مگر بائیبل سے کسی درجہ کم معتبر نہیں۔چنانچہ بائیبل کا جو ضمیمہ بعد میں مرتب ہوا ہے اس میں عیزڈراس کو شامل کر لیا گیا ہے۔اس کتاب کی دوسری کتاب کے چودھویں باب کو پڑھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح حضرت عزیرؑ نے اپنے پانچ ساتھیوں سمیت چالیس دن تک تورات کو دوباہ لکھا۔کتاب مذکورہ کے چودھویں باب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہے لکھا ہے:۔تورات کا کلیۃً مٹ جانا اور اس کے بعد لکھا جانا ’’دیکھو اے خدا میں جاؤں گا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا ہے۔اور جو لوگ موجود ہیں میں ان کو فہمائش کروں گا۔لیکن جو لوگ کہ بعد کو پیدا ہوں گے ان کو کون فہمائش کرے گا۔اس طرح دنیا تاریکی میں ہے۔اور جو لوگ اس میں رہتے ہیں بغیر روشنی کے ہیں کیونکہ تیرا قانون جل گیا۔پس کوئی نہیں جانتا ان چیزوں کو جو تو کرتا ہے۔اور ان کاموں کو جو شروع ہونے والے ہیں۔لیکن اگر مجھ پر تیری مہربانی ہے تو تُو روح القدس کو مجھ میں بھیج اور میں لکھوں تمام جو کچھ کہ دنیا میں ابتداء سے ہوا ہے اور جو کچھ تیرے قانون میں لکھا تھا۔تاکہ تیری راہ کو پاویں اور وہ لوگ جو اخیر زمانے میں ہوں گے زندہ رہیں اور اس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ جا اپنے راستے سے لوگوں کو اکٹھا کر اور ان سے کہہ وہ چالیس دن تک تجھ کو نہ ڈھونڈیں۔لیکن دیکھ تو بہت سے صندوق کے تختے تیار کر اور اپنے ساتھ سیریاSARIA ڈبریا DABRIA سیلیمیاSELEMIA اکانس ECANUSاور اسیل ESIAL کو لے۔اور ان پانچوں کو جو بہت تیزی سے لکھنے کو تیار ہیں اور یہاں آ۔اور میں تیرے دل میں سمجھ کی شمع روشن کروں گا۔جو نہ بجھے گی تا وقتیکہ وہ چیزیں پوری نہ ہوں جو تو لکھنی شروع کرے گا۔‘‘ (آیت ۲تا ۲۵) غرض حضرت عزیرؑ اور پانچ زود نویس چالیس روز تک اوروں سے الگ تھلگ جا بیٹھے اور الہامی تائید سے انہوں نے چالیس دن میں دو سو چار کتابیں لکھیں (آیت ۴۴ ) جن میں نہ صرف تورات بلکہ وہ سب کتابیں جو حضرت موسٰی سے لے کر حضرت عزیرؑ تک کے پیغمبروں کی طرف منسوب تھیں شامل ہیں۔