تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 55

بھی کہتے ہیں (اقرب ) اس آیت میں مَرْعٰی سے مراد گھاس پھونس ہے چراگاہ مراد نہیں۔غُثَآءً۔غُثَآءً۔یہ لفظ غُثَاءٌ اور غُثَّاءٌ دونوں طرح بولا جاتا ہے اور اس کے معنے ردّی چیز کے ہوتے ہیں۔ہر قسم کی چیز جو ردّی ہو جائے اس کے متعلق کہتے ہیں وہ غُثَاء ہو گئی اور غُثَاءٌ کے معنے جھاگ کے بھی ہوتے ہیں اور غُثَاءٌ کے معنے ہلاک ہونے والی چیز کے بھی ہوتے ہیں اور غُثَاءٌ درخت کے ان پتوں کو بھی کہتے ہیں جو گر کر سڑ جاتے ہیں۔اور جب بارش کا پانی یا سیلاب آتا ہے تو باغوں، میدانوں اور گلیوں میں سے ان سڑے ہوئے پتوں کو پانی اٹھا لیتا ہے اس وقت جھاگ میں مل کر ان گلے سڑے پتوں کے جو باریک باریک ذرّات نکلتے ہیں ان کو بھی غُثَاءٌ یا غُثَّاءٌ کہتے ہیں۔(اقرب) اَحْوٰى۔اَحْوٰى۔یہ لفظ حَوِیَ سے نکلا ہے۔حَوِیَ الشَّیْءُ کے معنے ہوتے ہیں کَانَ بِہٖ حُوَّۃٌ اس میں حُوّہ پایا جاتا ہے (اقرب) اور حُوَّۃٌ کے معنے ہوتے ہیں ایسی سیاہی جو سبزی کی طرف مائل ہو۔یا ایسی سرخی جو سیاہی کی طرف مائل ہو (اقرب)۔پس اَحْوٰىکے معنے ہوئے ایسی سیاہ رنگ والی چیز جس میں کچھ سبزی کی جھلک پائی جاتی ہو۔یا ایسی سرخ رنگ والی چیز جس میں کچھ سیاہی کی جھلک پائی جاتی ہو۔چونکہ اَحْوٰى کے اصل معنے ایسی سیاہ رنگ والی چیز کے ہیں جس میں سبزی کی جھلک پائی جاتی ہو اس لئے اَحْوٰى کا لفظ عربی زبان میں دو طرح استعمال ہوتا ہے۔اس چیز کو بھی اَحْوٰى کہتے ہیں جو ایسی شدید سبز ہو کہ اس میں سیاہی کی جھلک پیدا ہوگئی ہو جیسے اعلیٰ درجہ کی روئیدگی ہو تو اس کی سبزی سیاہی مائل ہو جاتی ہے۔اس قسم کی روئیدگی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔اور اسی کے متعلق سرسبز وشاداب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے بالمقابل اَحْوٰى کا استعمال ایسی چیزوں کے متعلق بھی کیا جاتا ہے جن میں گل سڑ کر سیاہی پیدا ہو جاتی ہے۔گویا وہ سڑی گلی چیزیں جو گھاس پھونس کی قسم میںسے ہوتی ہیں اور جو پہلے تو سبز ہوتی ہیں لیکن پانی کے ساتھ مل کر ان میں سڑانڈ پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنا اصل رنگ چھوڑ کر سیاہ ہو جاتی ہیں ان کو بھی اَحْوٰى کہتے ہیں۔تفسیر۔قولِ فصل کے متعلق پیدا شدہ سوال کے جواب کے متعلق مزید وضاحت اس آیت میں اللہ تعالیٰ اسی اعتراض کو ردّ کرتا ہے جو قولِ فصل کے متعلق پیدا ہوتا تھا۔فرماتا ہے وَالَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى وہ خدا ہی ہے جس نے چارہ کو پیدا کیا ہے اور چارہ ایک محدود اور تھوڑے زمانہ سے تعلق رکھنے والی چیز ہوتی ہے۔بعض گھاس ایسے ہیں جو پندرہ بیس دن رہتے ہیں۔بعض سبزیاں ایسی ہیں جو مہینہ دو مہینے رہتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو چار پانچ مہینے رہتی ہیں مگر اس عرصہ کے بعد وہ سڑ گل جاتی ہیں اور خدا ان کو غُثَآءً اَحْوٰى کر دیتا ہے یعنی