تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 47
متواتر ترقی کرتے چلے جانے کے ذرائع مہیا کئے۔دوسرے معنے الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى کے یہ تھے کہ جب کبھی اس میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ کج ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت کے مطابق اس کی اصلاح کے سامان کئے اور اس کی کجی کو دور کر دیا۔ان معنوں کے لحاظ سے وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى کے یہ معنے ہوں گے کہ جب بھی وہ کج ہوا اس کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہدایت بھجوا دی اور اس طرح اس کی اصلاح کی۔اگر ضرورت کے مطابق ہدایت نہ ہوتی یا کم ہوتی تو وہ گمراہ ہو جاتا اور اگر ضرورت سے بڑھ جاتی تب بھی اس کی قوتیں ٹوٹ جاتیں اور وہ حیران رہ جاتا پس اصلاح کا اس نے صحیح طریق اختیار کیا اور اس قدر جو ضروری تھا نازل کیا۔گویا جیسی جیسی مرض تھی اور جتنی جتنی کجی پائی جاتی تھی اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے علاج نازل کیا اس کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے کہ اگر ضرورت سے زائد تعلیم دی جاتی تو وہ بنی نوع انسان کو ہلاک کرنے والی ثابت ہوتی۔چنانچہ اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا جا چکا ہے کہ پہلے آدمؑ کے وقت بھی سب بدیوں کے ارتکاب کا نہ موقع تھا نہ انسانی ذہن میں وہ آئی تھیں مگر ان کا ذکر اس وقت کر دیا جاتا تو گناہ پیدا ہوتا نہ کہ اصلاح۔پس بدی کے ایجاد ہونے سے پہلے اس کا علاج کرنا درست نہ تھا اسی لئے کامل کتاب اس وقت آئی جب سب بدیاں اور بداخلاقیاں شیطانی لوگوں نے ایجاد کر لیں۔دوسرے ارتقائے ذہنی جب تک نہ ہو اس وقت تک اعلیٰ تعلیمات کا سمجھنا بھی آسان نہیں ہوتا۔پس ضروری تھا کہ ارتقائے ذہنی تک وقتی کامل کتاب دی جاتی نہ کہ کُلّی کامل۔غرض چونکہ انسان کامل القویٰ پیدا کیا گیا تھا اس لئے کامل القویٰ ہونے کے لحاظ سے ایک وقت پھر اسے کامل طور پر کامل تعلیم ملنی چاہیے تھی اور بوجہ ارتقاء کا مادہ اپنے اندر رکھنے کے اسے ایک وقت تک صرف وقتی کامل تعلیمات ملنی چاہیے تھیں۔اگر کامل تعلیم نہ ملتی تو اس کی طاقتوں کا پورا جواب نہ ملتا اور اگر وقتی کامل تعلیم نہ ملتی تو ارتقاء کی منازل طے نہ ہو سکتیں اور انسان بوجھ تلے دب کر کامل ہونے سے پہلے ہی مُرجھا جاتا۔پس جس خدا نے اسے پیدا کیا اور کامل بنایا اور ساتھ ہی نقائص و امراض کا شکار بھی بنایا تا کہ وہ اپنے عمل اور قوت سے کام لے کر انعام کا مستحق ہو اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ ان دونوں باتوں کا لحاظ رکھتا اور ہدایت کا لچک دار انتظام کرتا۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔اس نے انسان کو پیدا کیا اور جب بھی اس میں اعوجاج پیدا ہوتا رہا اس کے مطابق وہ اصلاح کے سامان مہیا کرتا رہا۔غرض پہلی آیت کے جو د۲و معنے کئے گئے تھے ان کے لحاظ سے اس آیت کے بھی د۲و معنے ہیں۔ایک یہ کہ اس نے انسان کی استعدادِ کمال کو ضائع نہیں ہونے دیا بلکہ ہمیشہ اس کے بڑھنے کے ذرائع مہیا کئے۔دوسرے یہ کہ مرض پیدا ہونے پر اس مرض کے مطابق علاج نازل کیا۔ایک معنوں کے لحاظ سے ترقی کی