تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 38
اور جلال اور قدرت کا مشاہدہ انہوں نے نہیں کیا مگر تو نے تو ہم کو دیکھ لیا ہے کیونکہ ہم تیرے لئے ربّ الاعلیٰ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں اس لئے اب یہ تیرا ہی حق ہے کہ جو عیوب لوگوں کی طرف سے منسوب کئے جاتے ہیں ان کو دور کر اور خدا تعالیٰ کی عظمت دنیا میں ظاہر کر۔ان معنوں کی صورت میں اسم سے مراد سارے اسماء لئے جائیں گے صرف ایک اسم مراد نہیں لیا جائے گا۔پھر اسم سے اسماء مراد لینے کی صور ت میں اس طرف بھی اشارہ سمجھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ کی شان تو سب سے اعلیٰ ہے لیکن بوجہ اس کے کہ وہ رب ہے ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔اس قانون کے ماتحت اس نے پہلی کتب میں تشبیہی کلام استعمال کئے تھے لیکن اب ربوبیت اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے اور حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کا وقت آ گیا ہے اس لئے تو ان تمام غلطیوں کا ازالہ کر جو صفاتِ الٰہیہ کے بارہ میں پہلی کتب سے لگ رہی تھیں۔اگر قرآن کریم کا سابق الہامی کتب سے مقابلہ کیا جائے تو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ پہلی کتب میں ربّ الاعلیٰ ہونے کا اظہار نہیں کیا گیا۔یعنی پہلی کتب کے نزول کے وقت چونکہ انسانی دماغ ابھی اپنے ارتقاء کو نہیں پہنچا تھا اور وہ زیادہ باریک باتوں کو سمجھنے کی استعداد نہیں رکھتا تھا بلکہ ابھی نشوونما حاصل کر رہا تھا اس لئے ان کتب میں تشبیہی کلام کثرت کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا کبھی کسی نبی کی بعثت کو خدا کا آنا کہہ دیا جاتا۔کبھی اللہ تعالیٰ کو باپ کہہ کر پکارا جاتا۔کبھی اس کے پیاروں کو خدا کا بیٹا کہہ دیا جاتا۔کیونکہ بغیر ان استعارات اور تشبیہی کلام کے وہ حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔مگر فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے ہم ربّ الاعلیٰ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔یعنی تمام تشبیہات اور استعارات سے منزّہ اور بالا ہو کر ہم نے اپنا وجود تجھ پر ظاہر کیا ہے۔اس لئے پہلی کتابوں سے جو اعتراضات پیدا ہوتے ہیں تو ان کو دور کر۔پہلی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کبھی اللہ تعالیٰ کو باپ کہہ دیا جاتا، کبھی اسے ماں کہہ کر پکارا جاتا ،کبھی کسی نبی کو خدا کا بیٹا کہہ دیا جاتا، کبھی کسی نبی کو خدا کا اکلوتا قرار دے دیا جاتا۔اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بھی بیٹے ہیں یا اللہ تعالیٰ بھی باپ اور ماں کی طرح ہے بلکہ صرف اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کہ جس طرح بیٹا باپ میں سے نکلتا ہے اسی طرح نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی صفات کو ظاہر کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔یہ تشبیہی کلام استعمال کیا گیا تھا اور دراصل ایسا ہونا ضروری بھی تھا۔کیونکہ انسانی دماغ ابھی نشوونما پارہا تھا وہ ارتقائی منازل کو آہستہ آہستہ طے کر رہا تھا اور ابھی وہ اس قابل نہیں ہوا تھا کہ شریعت کے باریک احکام یا الٰہی کلام کی باریک حکمتوں کو سمجھ سکے۔مگر اب تیرے لئے ہم ربّ الاعلیٰ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔