تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 36
صفتِ احیاء کا اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا۔آپؐجس قوم میں مبعوث ہوئے اس پر ایسی تباہی اور بربادی آئی ہوئی تھی کہ جس کی نظیر دنیا میں بہت ہی کم پائی جاتی ہے۔مگر پھر خدا تعالیٰ نے آپؐکے ذریعہ ہی آپؐکے ہاتھ پر اس مردہ قوم کو زندہ کر دیا اور اسے دنیا کا فاتح اور حکمران بنا دیا۔عجیب بات یہ ہے کہ اور بیمار تندرست ہونا چاہتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علاج کے لئے جو بیمار ملا وہ ایسا تھا جو اپنی زندگی کا خواہاں نہیں تھا۔بلکہ چاہتا تھا کہ مرجائے اور اس کا وجود دنیا سے مٹ جائے۔مگر پھروہی بیمار جو مرنا چاہتا تھا جو زندگی کا ملنا ناممکن سمجھتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے اچھا ہوا، زندہ ہوا اور اس نے دنیا کے اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کو زندہ کر دیا۔مکہ کے لوگ جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی معمولی تاجر تھے۔نہ ان کو حکومت حاصل تھی، نہ ان میں کوئی نظام موجود تھا، نہ انہیں کوئی عزت اور شہرت حاصل تھی۔انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے۔مگر دیکھو وہ لوگ آپؐکے ذریعہ سے کس طرح زندہ ہو کر دنیا میں پھیل گئے۔جس طرح چیل جھپٹا مار کر اپنے شکار کو قابو میں کر لیتی ہے اسی طرح وہ دیوانہ وار دنیا میں نکلے اور بڑی بڑی حکومتوں کو انہوں نے تَہ وبالا کر دیا۔اہلِ عرب کی حیثیت اس قدر معمولی تھی کہ ہمسایہ حکومتوں کے ادنیٰ ادنیٰ تحصیلدار بھی ان کو ڈانٹ ڈپٹ دیا کرتے تھے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے کے بعد ان کی طاقت کا یہ حال ہو گیا کہ وہ بڑی بڑی حکومتوں کے ساتھ ٹکرانے لگ گئے۔قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ان کے مقابلہ میں پاش پاش ہو گئیں۔اور بڑے بڑے بادشاہ گردن جھکائے اور ہتھیار ڈالے ان کے سامنے حاضر ہوئے۔یہ نمونہ تھا اس احیاء کا جو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا۔اور لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے سن کر کہہ دیتے ہیں کہ خدا مردے زندہ کیا کرتا ہے۔باپ نے کہہ دیا کہ خدا مُـحْیٖ ہے تو بچے نے بھی مان لیا۔استاد نے کہہ دیا کہ خدا مُـحْیٖ ہے تو شاگرد نے بھی تسلیم کر لیا مگر جس شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ خدا مُـحْیٖ ہے جس شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ قوم جو صدیوں سے مردہ چلی آرہی تھی۔جو زندہ نہیں ہونا چاہتی تھی وہ زندہ ہو گئی۔وہ فاتح اور حکمران ہو گئی۔وہ خدا تعالیٰ کی اس صفت کا بے عیب ہونا جس طرح ظاہر کر سکتا ہے کوئی دوسرا کس طرح کر سکتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ شافی ہے۔مگر لوگ اس صفت کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔وہ زبان سے تو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شافی ہے مگر انہوں نے اس کی صفتِ شفا کا کوئی عملی نمونہ دیکھا نہیں ہوتا۔وہ تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہم نے ہَڑ کھائی اس لئے پاخانہ آ گیا۔ان کا ذہن صرف مادیات میں ہی الجھ کر رہ جاتا ہے اس عظیم الشان ہستی کی طرف ان کا دل متوجہ نہیں