تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 353
پر عمل کریں۔وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا۔اور یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں کہ ایسے لوگ ہی اللہ تعالیٰ کی برکات کو حاصل کرتے ہیں۔جو احکامِ الٰہیہ کی متابعت کو خوشی سے قبول کرتے ہیں۔وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ۰۰۲۰ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا وہ نحوست والے ہوں گے۔حلّ لُغات۔مَشْئَمَۃٌ۔مَشْئَمَۃٌ کے معنی بائیں کے بھی ہوتے ہیں۔اور مَشْئَمَۃٌ نحوست کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔پہلی آیت کی طرح اس آیت کا بھی ایک تو یہ مفہوم ہے کہ جو لوگ احکامِ الٰہیہ کا انکار کریں گے وہ قیامت کے دن ان لوگوں کی صف میں کھڑے کئے جائیں گے جن کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیا جائے گا۔اور ایک معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگ اپنے نفس اور اپنی قوم کے لئے سخت منحوس ہیں۔ناکامی ان کے شامل حال رہے گی۔عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌؒ۰۰۲۱ ان پر بھٹی کی آگ (کی سزا) نازل ہو گی۔حلّ لُغات۔اَلْمُؤْصَدَۃ۔اَلْمُؤْصَدُ کے معنے ہیں۔اَلْمُطْبَقُ وَالْمُغْلَقُ بند کی ہوئی چیز (اقرب) پس نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ کے معنے ہوں گے ایسی آگ جو بند کی گئی ہو۔تفسیر۔پہلے لوگ شائد نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ کی حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھتے ہوں مگر موجودہ زمانہ کے لوگوں کے لئے اس کی حقیقت کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کیونکہ نئے علوم نے واضح کر دیا ہے کہ سخت ترین آگ وہ ہوتی ہے جس پر چاروں طرف سے دروازے بند کر دئیے جائیں۔بھٹی کی آگ اسی لئے تیز ہوتی ہے کہ اسے چاروںطرف سے بند کر کے صرف ایک چھوٹا سا سوراخ رکھ لیا جاتا ہے جو آگ اس طرح بھڑکائی جائے وہ اس قدر تیز ہوتی ہے کہ سب کچھ جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں کفار کے انجام کا ذکر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ آج تو یہ لوگ اسلام کے مقابل میں