تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 349

کی۔انہوں نے رسم و رواج کو چھوڑنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے جھوٹے عقائد کو ترک کرنے کی کوشش نہیں کی اور اس طرح وہ تباہی و بربادی کے گڑھے میں ہی گرے رہے۔اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍۙ۰۰۱۵ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔حلّ لُغات۔مَسْغَبَۃٍ۔سَغَبَ الرَّجُلُ سَغْبًا وسُغُوْبًا وسَغَبًا وَسَغَابَۃً وَمَسْغَبَۃً (اقرب) کے معنے ہیں جَاعَ وہ بھوکا رہا (اقرب) پس مَسْغَبَۃٌ کے معنے بھوکے رہنے کے ہوئے۔تفسیر۔فرماتا ہے اگر اس کے اندر یتامیٰ و مساکین کی حقیقی محبت ہوتی اور وہ ان کی تکالیف کو دور کرنے کا صحیح احساس اپنے اندر رکھتا تو اس کا فرض تھا کہ وہ بھوک والے دن ان کو کھانا کھلاتا۔یعنی قحط میں ان کی خبرگیری کرتا یا فقر وفاقہ میں ان کے لئے غلّہ وغیرہ مہیا کرتا۔یہ مان لیا کہ وہ سو سو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کرتا رہا ہے۔مگر ہم تو یہ کہتے ہیں وہ بے موقعہ ذبح کرتا رہا ہے اور ان کو ذبح کرنے کا موقع یہ تھا کہ وہ یتامیٰ ومساکین کے لئے ان کو ذبح کرتا اور ان کا گوشت ان میں تقسیم کر دیتا یا خود پکا کر ان کو دعوت دے کر ان کی بھوک کو دور کرتا۔یہاں فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ کے الفاظ اسی حکمت کے ماتحت لائے گئے ہیں کہ پہلے یہ ذکر آ چکا تھا کہ وہ نام ونمود کے لئے، جاہ طلبی اور شہرت کے حصول کے لئے اپنا روپیہ صرف کر دیتا ہے۔اس سے خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے وہ یتامٰی ومساکین کو بھی کھلا دیتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ روپیہ تو خرچ کرتا تھا۔اپنے اونٹوں کو بھی ذبح کرتا تھا مگر بھوک والے دن نہیں۔یعنی جب بھوکوں کو ضرورت ہوتی تھی۔وہ ان کو ذبح نہیں کرتا تھا۔بلکہ جب اپنی شہرت کا جنون اس کے سر پر سوار ہو جاتا تو سو سو اونٹ ایک ایک دن میں ذبح کر دیتا۔حالانکہ اگر حقیقی ضرورت کو مدنظر رکھ کر وہ کام کرتا تو دوستوں کی دعوت کے لئے صرف ایک اونٹ ذبح کرتا اور ننانوے اونٹ یتامیٰ و مساکین کے لئے رکھ لیتا۔تاکہ ان کو فاقہ کی مصیبت پیش نہ آتی۔پس چونکہ اس نے قومی ضرورت کو مدنظر نہیں رکھا اور اپنے مال کو بے موقعہ خرچ کر کے ضائع کر دیا۔اس لئے ہماری نگاہ میں وہ کسی تعریف کا مستحق نہیں نہ اس قابل ہے کہ لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھیں۔