تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 348
کسی نے کہنا مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے تو سننے والا کہتا کون مولوی صاحب۔اور وہ کہتا حضرت خلیفہ اوّلؓ یا کہتا مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے۔اور سننے والا کہتا کہ کون مولوی صاحب تو وہ کہتا مولوی عبدالکریم صاحب۔چند دن تک تو میر محمد اسحق صاحب یہ سنتے رہے۔مگر ایک دن ان کو بڑا غصہ آیا کہ یہ کیا بات ہے کہ یہ بھی مولوی صاحب اور وہ بھی مولوی صاحب۔ان کا نام آئے تب بھی لوگ کہتے ہیں مولوی صاحب نے یہ کہا اور ان کا نام آئے تب بھی لوگ کہتے ہیں کہ مولوی صاحب نے یہ کہا۔یہ بالکل غلط طریق ہے۔آئندہ مولوی عبدالکریم صاحب کی کوئی بات ہو گی تو میں کہوں گا مولوی صاحب نے یہ کہا ہے۔اور خلیفۂ اوّلؓ کی کوئی بات ہو گی تو میں کہوں گا چولوی صاحب نے یہ کہا ہے۔گویا انہوں نے امتیاز کا یہ نرالا طریق نکالا کہ ایک کو مولوی صاحب کہا جائے اور دوسرے کو چولوی صاحب کہا جائے یہ ہے تو بچپن کی ایک حماقت۔لیکن واقعہ یہی ہے کہ جب کسی کو کوئی خاص اعزاز حاصل ہو جائے تو اس کے مقابل میں دوسروں کو کہا جاتا ہے کہ تم چھوٹے درجہ کے ہو۔پھر ان کو اور چھوٹا کیا جاتا ہے۔پھر اور چھوٹا کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ مکمل غلام بن جاتے ہیں۔پس غلام کی آزادی درحقیقت قوم کی آزادی ہے۔یہ دس یا بارہ آدمیوں کا سوال نہیں بلکہ قوم کا کیرکٹر تبھی بلند ہوتا ہے جب غلط اصول پر قائم شدہ امتیازات کو مٹا دیا جائے۔اسی طرح خدا کی خوشنودی بھی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب غلاموں کو آزاد کیا جائے یا غلاموں کو آزاد کرانے کی سرگرم کوشش کی جائے۔فَکُّ رَقَبَۃٍ کے دوسرے معنی غلط عقائد کی اصلاح اور رسم و رواج کی پابندیوں کو توڑ دینے کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کفار کی نسبت فرماتا ہے اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ (الرّعد:۶) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا اور جن کی گردنوں میں اغلال پڑے ہوئے ہیں۔اس جگہ کفر و شرک کے معنوں میں اغلال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ یہ وہ طوق ہیں جنہوں نے ان کی گردنوں کو خم کیا ہوا ہے۔اسی طرح یہود کی نسبت فرماتا ہے۔وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ (الاعراف:۱۵۸ ) ہمارا یہ رسول ان کے اِصر کو دور کرتا ہے اور ان کے اغلال کو کاٹتا ہے۔ان ہر دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فَکُّ رَقَبَۃٍ کے معنے جہاں غلام آزاد کرنے کے ہیں وہاں غلط عقائد رسم و رواج کی سختیاں، جھوٹے نظام جو ظالم سرداروں کو سَرپر بٹھا دیں۔جیسے احبار وجابر بادشاہ جن کی وجہ سے قوم اپنی گردن اوپر نہ اٹھا سکے۔وہ بھی اس میں شامل ہیں۔پس فَکُّ رَقَبَۃٍ کے معنے یہ ہوئے کہ ہم تو ان کو غلامی سے آزاد کرانے لگے تھے۔مگر ان کو اپنے اغلال توڑنے کی ہمت نہ پڑی۔انہوں نے غلاموں کو آزاد کرنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے قوم کے ادنیٰ طبقہ کو ابھارنے کی کوشش نہیں