تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 345

راستے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ذریعہ کھولے ہیں۔جو لوگ آپ پر سچے دل سے ایمان لائیں گے اور اسلام کے تمام احکام کی خلوصِ دل کے ساتھ اتباع کریں گے انہیں نہ صرف روحانی ترقی حاصل ہو گی اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان سے خوش ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ ا نہیں دنیوی نعماء سے بھی متمتع فرمائے گا چنانچہ دیکھ لو محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے صحابہؓ کو صرف دین ہی نہیں ملا بلکہ دنیا بھی ملی اور آخر حکومت کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں دے دی۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ آج تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کو دیکھتے ہو تو حقارت کی ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہو کہ چند بےوقوف نوجوان ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں ہیں۔مگر تم نہیں جانتے کہ یہی نوجوان جن کو تم بے وقوف قرار دے رہے ہو جن کو تم نہایت ذلیل اور حقیر وجود سمجھتے ہو۔ایک دن محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر ایمان لانے کی برکت سے دنیا کے بادشاہ بن جائیں گے اور دینی اور دنیوی دونوں ترقیات کے راستے ان کے لئے کھل جائیں گے۔چنانچہ ایک دن آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کے مطابق صحابہؓ کو بادشاہت دے دی۔اور اس طرح دونوں نجد ان کو مل گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے لئے بھی اسلام کی اتباع میں دینی اور دنیوی دونوں ترقیات تھیں۔اخلاقی راستہ پر چل کر خدا تعالیٰ کا خوش ہونا اور قوم کی خدمت کی وجہ سے شیرازہ بندی اور سیاست کی مضبوطی کا حاصل ہونا۔دونوں قطعی اور یقینی امور تھے۔مگر باوجود اس کے کہ ہم نے تمہیں آنکھیں دی تھیں، تمہیں زبان دی تھی، تمہارے سامنے اسلام کے ذریعہ دینی اور دنیوی ترقیات کا ایک بہت بڑا میدان تیار کیا تھا۔پھر بھی تم نے اس راستہ کو اختیار نہ کیا جو تمہیں کامیابی کی منزل کی طرف لے جاتا بلکہ تم اسی راستہ کی طرف جھکے رہے جو ہلاکت و تباہی وبربادی کا تھا۔فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَٞۖ۰۰۱۲ (مگر) وہ پھر بھی چوٹی پر نہ چڑھا۔حلّ لُغات۔اِقْتِحَامٌ۔اِقْتِحَامٌ کے معنے نتائج سے بے فکر ہو کر اور عواقب کو نظر انداز کرکے کسی کام میں مشغول ہو جانے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے اِقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ: رَمٰی نَفْسَہٗ فِیْـھَا بِشِدَّۃٍ وَّمَشَقَّۃٍ۔کسی کھائی میں داخل ہونے کے لئے یا کسی معاملہ میں اپنے آپ کو سختی سے ڈال دیا۔اسی طرح قَـحَمَ فِی الْاَمْرِ کے معنے ہوتے ہیں۔رَمٰی بِنَفْسِہٖ فِیْہِ فَـجْأَۃً بِلَا رَوِیَّۃٍ بغیر سوچنے کے جس طرح پروانہ شمع پر جاگرتا ہے