تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 343
اس کے بعد ان کا کیا عذر رہ جاتا ہے۔زبان کے ساتھ ہونٹوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے کیا ہے کہ ہونٹ ہوا کو روکتے ہیں اور انسانی آواز کو بلند کرتے ہیں۔جس شخص کے دانت نکل جائیں وہ اونچی آواز سے نہیں بول سکتا۔میرا صرف ایک دانت نکلا ہوا ہے مگر جب میں تقریر کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے بعض دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ اس خلا میں سے پھونک نکل جاتی ہے اور کسی کسی لفظ کا تلفظ صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ موٹے ہونٹوں کو ناپسند کرتے ہیں مگر میرے لئے تو موٹے ہونٹ خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی رحمت کا موجب بن گئے ہیں۔میرے دانت سب گر چکے ہیں مگر موٹے ہونٹوں کی وجہ سے میں اب بھی خوب اونچی آواز سے بول سکتا ہوں تو فرمایا ہم نے انسان کو بولنے کے لئے زبان دی اور پھر ہم نے اسے ہونٹ بھی دیئے تاکہ اگر سامع اس کے قریب نہ ہو تو وہ دور تک اپنی آواز پہنچا سکے۔وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ۰۰۱۱ اور (پھر) ہم نے اسے (دینی ودنیوی) دونوں راستے بھی تو بتا دیئے ہیں۔تفسیر۔نَـجْدٌ۔نَـجْدٌ کے معنے پہاڑی راستہ کے ہوتے ہیں۔لیکن مفسرین نے اس سے برائی اور بھلائی کا راستہ مراد لیا ہے۔چنانچہ حضرت ابن عباسؓ اور ابن مسعودؓ دونوں نے کہا ہے کہ اس جگہ نَـجْدَیْنِ سے خیر اور شر دو۲ راستے مراد ہیں اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو بھلائی کا راستہ بھی بتا دیا اور برائی کا راستہ بھی بتا دیا مگر اس نے اچھے راستے کو اختیار نہیں کیا۔نجدین سے مراد بھلائی اور برائی کے دو راستے میری رائے یہ ہے کہ یہاں نَـجْدَیْن سے بھلائی اور برائی کے راستے مراد نہیں بلکہ دینی اوردنیوی ترقی کے راستے مراد ہیں۔شر کا راستہ اونچا نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ نہ اس کے اختیار کرنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ اس راستہ پر چل کر کوئی عزت ملتی ہے اور راستہ اونچا انہی دو سبب سے کہلاتا ہے۔اس پر چڑھنے میں تکلیف ہو یا اس پر چڑھ کر صحیح عزت ملے۔پس یہاں نَـجْدَیْن سے خیر اور شر مراد نہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے انسان کی ترقی کے لئے دونوں قسم کے راستے کھول دئیے ہیں اس کی دینی ترقی کے راستے بھی کھولے ہوئے ہیں اور اس کی دنیوی ترقی کے راستے بھی کھولے ہوئے ہیں۔اور یہ دونوں