تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 342

پڑتا ہے۔وہ اپنی اس غلطی میںقطعی طور پر معذور ہوتا ہے مگر مادی دنیا کا قانون اسے راستہ بھولنے کی سزا سے نہیں بچا سکتا یا ایک شخص کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں، اس کی زبان بھی موجود ہوتی ہے مگر اسے کوئی راستہ بتانے والا نظر نہیں آتا اور وہ ٹھوکر کھا کر شیروں کی کچھار میں پہنچ جاتا ہے۔اب بے شک وہ اپنے اس فعل میں معذور ہوتا ہے مگر نیچر کا قانون اسے تکلیف سے نہیں بچا سکتا۔یہ نہیں ہوتا کہ نیچر اسے شیروں کی کچھار سے پرے پھینک دے۔یا دھکے دے کر ہاتھیوں کے حملہ سے اسے بچالے۔لیکن فرمایا روحانی معاملہ اور رنگ کا ہوتا ہے۔اس میں عذر قبول کیا جاتا ہے۔ایک اندھا گرتا ہے تو باوجود معذور ہونے کے وہ گڑھے میں گرنے کی تکلیف سے نہیں بچتا۔ایک گونگا راستہ نہیں پائے گا تو باوجود معذور ہونے کے وہ راستہ میں ٹھوکریں کھانے کی تکلیف سے نہیں بچتا۔ایک شخص آنکھیں بھی رکھتا ہے اور زبان بھی مگر چونکہ اسے راستہ بتانے والا کوئی نہیں ملتا وہ شیروں کی کچھار میں پہنچ جاتا ہے اور باوجود معذور ہونے کے اس کی یہ معذوری اسے موت کے پنجہ سے نہیں بچا سکتی۔لیکن فرمایا ہم اس قسم کے تمام حقیقی عذرات کو قبول کر لیا کرتے ہیں۔اگر لوگ روحانی آنکھوں سے معذور ہوتے تو ہم کہتے کہ وہ معذور تھے انہیں کوئی سزا نہ دی جائے۔اگر لوگ روحانی امور میں گویائی کی طاقت نہ رکھتے تو ہم بھی قرار دیتے کہ وہ معذور ہیں انہیں عذاب نہ دیا جائے۔اگر کوئی ہادی نہ آتا تب بھی ہم لوگوں کو معذور قرار دیتے۔پس اے مکہ والو! اگر تم میں کوئی ایسا قانون موجود نہ ہوتا جو تمہیں ہدایت اور راستی کی طرف لاتا اور تم اِدھر اُدھر ویسے ہی بھٹک رہے ہوتے۔جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے آنے سے پہلے بھٹک رہے تھے۔تو ہم کہتے مکہ بلد الحرام ہے۔اس کے رہنے والے ہماری نگاہ میں معذور ہیں۔ان کو ہماری طرف سے کوئی ہدایت نہیں ملی۔ان کو کوئی سزا نہ دی جائے۔مگر تمہاری حالت تو یہ ہے کہ تمہاری آنکھیں بھی موجود ہیں۔تمہاری زبان بھی موجود ہے۔تمہارے سامنے ایک ترقی کا راستہ بھی موجو د ہے۔تمہیں اس ترقی کے راستہ پر چلانے والا بھی موجود ہے اور تم پھر بھی گمراہی کو اختیار کئے ہوئے ہو۔ان حالات میں تم خود ہی غور کرو کہ تم عذاب الٰہی سے کس طرح بچ سکتے ہو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہلاکت سے بچنے کے تین ذرائع بتائے ہیں۔اوّل آنکھیں دیکھنے کے لئے دوم زبان اور ہونٹ پوچھنے کے لئے۔سوم ترقی کار استہ یعنی کامیابی کےلئے یہ تین چیزیں ضروری ہوتی ہیں۔مقصد صحیح ہو اور ترقی کا موجب بن سکے آنکھوں سے دیکھ کر کام کرے اور نہ معلوم ہو سکے تو پوچھے۔پھر ان کے لئے کیا مشکل تھا کہ ترقی کر جاتے۔آنکھیں خدا تعالیٰ نے دیکھنے کو دی تھیں۔زبان خدا تعالیٰ نے پوچھنے کو دی تھی۔صرف راستہ غائب تھا سو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے وہ راستہ جو اوپر لے جاتا ہے دکھا دیا۔