تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 341

کرتا کہ اس کے خرچ سے زیادہ سے زیادہ آدمیوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔اور جب واقعہ یہی ہے تو پھر خدا اور اس کے بندوں کی نگاہ میں اس کی کیا عزت ہو سکتی ہے۔اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ۰۰۹وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَيْنِۙ۰۰۱۰ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں پیدا کیں۔اور زبان بھی اور دو ہونٹ بھی۔تفسیر۔فرماتا ہے اس امر کو اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔اور خدا تعالیٰ سچے عذر کو ضرور قبول کر لیا کرتا ہے۔اگر تمہارا سچا عذر ہوتا تو اللہ تعالیٰ تمہیں یقیناً تباہ نہ کرتا اور وہ سچا عذر یہی ہوتا ہے کہ انسان کی آنکھیں نہ ہوں اور اسے کچھ دکھائی نہ دیتا ہو۔یہ لازمی بات ہے کہ جس کی آنکھوں میں بینائی نہیں ہو گی۔اس کے سامنے اگر کوئی گڑھا آئے گا تو وہ ضرور اس میں گر جائے گا۔مگر کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جو اسے یہ کہے کہ خبیث کیوں تو اس گڑھے سے بچ کر نہ چلا۔ہر شخص کہے گا کہ جب اس کی آنکھیں ہی نہیں تھیں تو اگر یہ گڑھے میں گر گیا ہے تو معذور ہے۔یا اگر ایک شخص راستہ بھول گیا ہے مگر وہ گونگا ہے لوگوں سے یہ دریافت نہیں کر سکتا کہ سیدھا راستہ کون سا ہے تو کوئی شخص اسے ملامت نہیں کرے گا کہ تو راستہ لوگوں سے پوچھ کر کیوں نہ چلا۔ہر شخص سمجھے گا کہ یہ معذور تھا۔یہ کسی سے راستہ پوچھ نہ سکتا تھا۔یا اگر کسی کی آنکھیں بھی ہوں، زبان بھی موجود ہو مگر کوئی راستہ بتانے والا نہ ہو اور وہ چلتے چلتے شیروں کی کچھار میں پہنچ جائے یا ہاتھیوں کی وادی میں چلا جائے اور شیر اس کو پھاڑ ڈالیں یا ہاتھی اس کو مسل ڈالیں تب بھی وہ معذور سمجھا جائے گا۔لوگ کہیں گے کہ اس کی آنکھیں تو تھیں جن سے راستہ دیکھ سکتا۔زبان بھی تھی جس سے کام لے کر لوگوں سے رستہ دریافت کر سکتا مگر چونکہ اسے کوئی صحیح رستہ بتانے والا نہیں ملا اس لئے وہ ٹھوکر کھا کر کہیں کا کہیں پہنچ گیا۔بہرحال وہ معذور اسی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے جب وہ بوجہ آنکھیں اور زبان نہ ہونے کے رستہ دیکھنے یا دریافت کرنے سے معذور ہو یا رستہ بتانے والا کوئی شخص موجود نہ ہو۔مگر ان تمام جائز اور صحیح اور معقول عذرات کے باوجود دنیا کا قانون اسے عواقب سے بچا نہیں سکتا۔ایک انسان اندھا ہوتا ہے اور وہ دن کے وقت یا رات کی تاریکی میں کسی گڑھے میں گر جاتا ہے وہ اس گرنے میں معذور ہوتا ہے۔مگر کوئی مادی قانون اسے گڑھے میں گرنے سے بچاتا نہیں یا ایک گونگا ہوتا ہے اور وہ راستہ پوچھ نہیں سکتا۔اس کے نتیجہ میں وہ ایک غلط راستہ پر چل