تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 339
ہم نے انسان کو فِيْ كَبَدٍ کے مقام پر پیدا کیا ہے۔مگر وہ اوّل تو اخلاق کو چھوڑ بیٹھتا ہے اور پھر اگر اس میں کوئی پہلو اخلاق نما پایا بھی جاتا ہے تو وہ غلو کی صورت اختیار کر کے ایک بدی بن جاتا ہے مثلاً ضرورت حقہ پر مال خرچ کرنا، یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری کرنا یہ اخلاق سے تعلق رکھنے والے افعال ہیں۔مگر وہ اس رنگ میں مال خرچ نہیں کرتا بلکہ جو کچھ آتا ہے اسراف سے کام لے کر تباہ و برباد کر دیتا ہے۔اس مقام پر کھڑے ہو کر بھی کیا وہ سمجھتا ہے کہ میرے اوپر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی تنگی نہیں آ سکتی۔کوئی تباہی اور بربادی مجھ پر مسلط نہیں ہو سکتی۔جو شخص ایک غلط مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے اور جس مقام کے لئے اسے پیدا کیا گیا تھا اسے بھول جاتا ہے۔وہ کس طرح سمجھ سکتا ہے کہ الٰہی گرفت سے وہ بچ جائے گا۔لازماً وہ اپنی اس بے اعتدالی کے نتیجہ میں ایک دن تکلیف میں مبتلا ہو گا۔مصیبت میں گرفتار ہو گا اور خدا کے فضل کی بجائے اس کا عذاب اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھے گا۔يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ۰۰۷ وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ڈھیروں ڈھیر مال لٹا دیا ہے۔حلّ لُغات۔لُبَدٌ۔لُبَدٌ کے معنے ہوتے ہیں۔کَثِیْرٌ لَا یُـخَافُ فَنَاؤُہٗ کَاَنَّہُ الْتَبَدَ بَعْضُہٗ عَلٰی بَعْضٍ۔اتنا زیادہ مال کہ اس کے ختم ہونے کا خوف نہ ہو۔گویا وہ ایک ڈھیر کے اوپر دوسرا ڈھیر ہے (اقرب) گویا لُبَدٌ کے معنے ہیں ڈھیروں ڈھیر مال۔تفسیر۔کہتا ہے تم یہ کیا کہتے ہو کہ میں نے مال خرچ نہیں کیا۔میں نے تو ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا ہے اور لوگ اس بات پر گواہ ہیں مگر تم یہ کہہ رہے ہو کہ میں نے کوئی مال خرچ ہی نہیں کیا۔اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗۤ اَحَدٌؕ۰۰۸ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے کیا وہ خیال کرتا ہے کہ نہ اوپر خدا اس کے افعال کو دیکھنے والا ہے۔نہ بندے اس کے اعمال پر نظر رکھتے ہیں اور وہ جو کچھ کہے گا اسے درست تسلیم کر لیا جائے گا۔خدا تو انسان کا دل دیکھتا ہے۔کیونکہ دل کی درستی بھی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کیا ہے۔مگر کیا خدا