تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 335
کے دروازہ سے ہلوں گا نہیں سب لوگ اپنی اپنی جھولیاں بھر چکے ہیں صرف میں خالی ہاتھ ہوں۔اگر میں نے ان ایام کو بھی ضائع کر دیا تو مجھے کیا ملے گا۔چنانچہ اس عہد کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دروازہ پر بیٹھ گئے اور کچھ ایسے بیٹھے کہ ایک منٹ کے لئے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی آنکھوں سے اوجھل ہونا انہیں ایک بلا اور عذاب معلوم ہوتا۔وہ ہر وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے رہتے۔سوائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں چلے جائیں۔کیونکہ وہاں پردہ ہوا کرتا تھا۔چونکہ وہ ہر وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دروازہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے اور وہ ڈرتے تھے کہ اگر میں اِدھر اُدھر ہوا تو ایسا نہ ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منہ سے کوئی بات نکلے اور میں اسے سن نہ سکوں۔اس لئے بسا اوقات انہیں کئی کئی دن کا فاقہ آ جاتا اور پھر شدت بھوک اور ضعف سے یہاں تک حالت ہو جاتی کہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر جاتے۔لوگ سمجھتے کہ ان کو مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور وہ عرب کے دستور کے مطابق اس کے علاج کے لئے ان کے سر پر جوتیاں مارنے لگ جاتے۔جب اسلامی فوجوں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو شکست دی تو وہ رومال جس کو کسریٰ اپنے ہاتھ میں لے کر دربار شاہی میں تخت پر بیٹھا کرتا تھا۔مال غنیمت میں تقسیم ہو کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا۔ایک دفعہ وہ رومال ان کے ہاتھ میں تھا کہ انہیں کھانسی اٹھی بلغم آیا اور انہوں نے اسی رومال میں اس بلغم کو تھوک دیا۔اور پھر کہا بَـخِّ بَـخِّ اَ بُوْھُرَیْرَۃَ واہ واہ ابو ہریرہ تیری بھی عجیب شان ہے کہ کسریٰ کا رومال تیرے ہاتھ میں ہے اور تو اس میں بلغم تھوک رہا ہے۔لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کا اس سے کیا مطلب۔اس پر انہوں نے اپنا واقعہ سنایا اور بتایا کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو میں نے یہ عہد کر لیا کہ چونکہ میں بہت بعد میں شامل ہوا ہوں اس لئے اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صحبت کو چھوڑوں گا نہیں اور آپ کے دروازہ پر ہی بیٹھا رہوں گا خواہ مجھے کتنی تکلیف ہو۔چنانچہ خدا نے مجھے اس عہد پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔مگر میری حالت یہ تھی کہ بعض دفعہ مجھ پر سات سات وقت کا فاقہ آ جاتا اور پھر ضعف کی وجہ سے مجھے غشی کا دورہ ہوجاتا۔صحابہؓ سمجھتے کہ مجھے مرگی ہوگئی ہے۔عربوں میںر واج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو وہ اس کے سر پر جوتیاں مارتے اور سمجھتے کہ یہ اس مرض کا علاج ہے اور اس طرح مریض کو ہوش آ جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں جب میں بے ہوش ہوتا تو میرے سر پر بھی اس خیال کے ماتحت جوتیاں ماری جاتیں حالانکہ مجھے اندر سے ہوش ہوتا تھا۔لیکن ضعف اس قدر غالب ہوتا تھا کہ بول نہیں سکتا تھا۔مگر آج یہ حالت ہے کہ کسریٰ کا رومال میرے ہاتھ میں ہے اور میں اس میں اپنا بلغم تھوک رہا ہوں۔