تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 334

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کی جماعت میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم میں وہ خرابیاں ہیں جو باپ میں موجود ہوتی ہیں۔اور آئندہ نسل کو تباہ کر دیتی ہیں۔نہ ان کے صحابہؓ میں وہ خرابیاں ہیں جو اولاد میں موجود ہوتی ہیں اور وہ باپ دادا کے نام کو ڈبو دیتی ہیں۔پھر دنیا میں ترقی و تنزل کے حالات پر غور کرنے سے ان کی چار وجوہ معلوم ہوتی ہیں۔یا تو باپ قابل ہوتا ہے لیکن بیٹا ناقابل ہوتا ہے۔یا باپ ناقابل ہوتا ہے اور بیٹا قابل ہوتا ہے۔یا باپ اور بیٹا دونوں ناقابل ہوتے ہیں یا باپ اور بیٹا دونوں قابل ہوتے ہیں۔گویا یا تو دونوں قابل ہوں گے یا دونوں ناقابل ہوں گے۔یا بیٹا قابل ہوگا اور باپ ناقابل یا باپ قابل ہوگا اور بیٹا ناقابل۔ان چاروں صورتوں میں سے جب بیٹا قابل ہوتا ہے اور باپ ناقابل ہوتا ہے تو کبھی بیٹا اپنے باپ کے اثر کو قبول کر لیتا ہے اور کبھی نہیں کرتا اور آگے نکل جاتا ہے۔کبھی باپ تو قابل ہوتا ہے۔لیکن بیٹا نا قابل ہوتا ہے۔ایسی صورت میں کبھی باپ کو ناکامی ہوتی ہے اور کبھی تربیت سے وہ اپنے بیٹے کو درست کر لیتا ہے۔لیکن کبھی دونوں ناقابل ہوتے ہیں اور کبھی دونوں قابل ہوتے ہیں۔جب باپ قابل ہو اور بیٹا ناقابل تو تربیت سے اس کے نقص کو دور کیا جا سکتا ہے۔گو بعض دفعہ یہ نقص دور نہیں بھی ہوتا۔جب باپ ناقابل ہو اور بیٹا قابل تو وہ کبھی باپ کے اثر کو مٹا کر کامیاب ہو جاتا ہے اور کبھی کسی پیدا کردہ الجھنوں میں دب کر خود بھی ہلاک ہو جاتا ہے۔لیکن جب دونوں ناقابل ہوں تو اس وقت ترقی کا کوئی راستہ نہیں کھلتا۔لیکن جب دونوں قابل ہوں تو اس وقت ان کا ترقی سے محروم رہنا ناممکن ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو دیکھ لو۔باپ وہ ہے جو اپنے اندر ساری خوبیاں جمع رکھتا ہے اور بیٹے وہ ہیں جو ہر وقت اس کی اطاعت میں مشغول رہتے ہیں۔اور جو بھی حکم ملے اس پر فوری طور پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ تکالیف برداشت کرتے ہیں مشکلات میں سے گذرتے ہیں۔مگر یہ پسند نہیں کرتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے منہ سے کوئی بات نکلے تو وہ اس کے سننے سے محروم رہیں اور اس پر عمل کرنے میں پیچھے رہیں۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔انہوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا تھا۔بیس سال رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دعویٰ پر گذر چکے تھے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیعت میں شامل ہوئے اور اس کے تین سال بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم وفات پاگئے۔وہ چونکہ جانتے تھے کہ بیس سال گذر چکے ہیں اور مجھے اسلام میں داخل ہونے کی بہت بعد میں توفیق ملی ہے۔اس لئے جب انہوں نے بیعت کی تو اپنے دل میں یہ عہد کر لیا کہ اب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم