تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 324

گواہ ہیں۔ابراہیمؑ گواہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور اسمٰعیل گواہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سچے ہیں اور تم نے جو طریق اس کی مخالفت میں اختیار کر رکھا ہے وہ اس مقصد کے بالکل خلاف ہے جس کو پورا کرنے کے لئے ابراہیمؑ نے دعائیں کیں اور جس کے ظہور کے لئے اسمٰعیلؑ نے قربانی کی۔ممکن ہے اس موقعہ پر کسی شخص کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ مکہ والے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مخالفت کرتے تھے تو اس لئے نہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے مقصد کا پورا ہونا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی مخالفت صرف اس لئے تھی کہ وہ اپنے متعلق یہ یقین رکھتے تھے کہ ہم نے اپنے وجود کے ذریعہ ابراہیمی دعا کو پورا کر دیا ہے یا ہم نے اپنے وجود کے ذریعہ اسمٰعیلی قربانی کو بے نتیجہ نہیں رہنے دیا۔ہم لات، مناۃ اور عزّیٰ کی پرستش اس لئے کرتے ہیں کہ یہی ابراہیمؑ کا مقصد تھا اور یہی اسمٰعیلؑ کا مقصد تھا۔یا ہم اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں تو اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں ابراہیمؑ نے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے جن باتوں کی خواہش ظاہر کی تھی وہ ساری کی ساری باتیں ہمارے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہیں۔اس لئے اب یہ ضرورت نہیں کہ کوئی اور شخـص آئے اور اپنے آپ کو ابراہیمی دعا کا نتیجہ یا اسمٰعیلی قربانی کا مقصود قرار دے۔ابراہیمؑ نے جو دعائیں کیں۔وہ ہمارے ذریعہ سے پوری ہو چکی ہیں اور اسمٰعیلؑ نے جس مقصد کے لئے قربانی کی تھی وہ بھی ہمارے وجود کے ذریعہ حاصل ہو چکا ہے۔ہم اس مقصد کی طرف جا رہے ہیں جو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کا مقصد تھا۔اور انہی عقائد کو ہم نے اختیار کیا ہوا ہے جو ان کے عقائد تھے۔اس لئے گو یہ عقائد برے نظر آئیں۔تمہیں لات اور مناۃ اور عزّیٰ کی پرستش بری دکھائی دے۔مگر ہمارے نزدیک جب ابراہیم اور اسمٰعیل دونوں کی یہی تعلیم تھی۔یہی مقصد بعثت تھا۔تو ہم پر اس بات کا کیا اثر ہو سکتا ہے کہ ہم نے ابراہیمی دعا کو عبث قرار دے دیا ہے یا اسمٰعیلی قربانی کے مقصد کو نظر انداز کر دیا ہے۔اس اعتراض کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے دو۲ جواب ہیں پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ مکہ کے لوگ لات اور مناۃ اور عزّیٰ وغیر کی پرستش کرتے تھے۔مگر ان میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو یہ کہتا ہو کہ ابراہیمؑ بتوں کی پرستش کرتا تھا یا اسمٰعیلؑ بتوں کی پرستش کرتا تھا۔یہ خدا نے ایک عجیب ثبوت رکھا ہوا تھا کہ ان کو کبھی جرأت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو بھی شرک میں ملوث کریں اور چونکہ وہ خود اپنے عقائد کے رو سے یہ باتیں ان کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے۔اس لئے وہ مسلمانوں کے سامنے اس بات کو پیش ہی نہیں کر سکتے تھے کہ ہم جس تعلیم پر قائم ہیں وہ ابراہیمی اور اسمٰعیلی مقصد کو پورا کرنے والی ہے۔کیونکہ وہ خود ان کو