تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 323

ہے کیونکہ اس طویل عرصہ کے بعد وہی اس مقام کا دعویدار ہے۔پہلی بات کو تسلیم کرنے کی صورت میں تمہیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیل دونوں کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے۔لیکن اگر دوسری بات مان لو تو پھر بے شک تم ان کے سچے ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہو۔مگر تمہاری تو یہ حالت ہے کہ تم ان کو سچا بھی کہتے ہوا ور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو بھی جھٹلاتے ہو جو اس دعا کا نتیجہ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی اور اس قربانی کا پھل ہیں جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے کی۔اگر تم ان کو جھوٹا کہتے ہو تو تمہیں ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو بھی جھوٹا کہنا پڑے گا۔اور اگر تم ابراہیمؑ اور اسمٰعیل کو سچا مانو تو پھر تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت پر بھی ایمان لانا پڑے گا۔بہرحال یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم باتیں ہیں۔اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سچے ثابت ہوں تو ابراہیمؑ بھی سچے ثابت ہوتے ہیں۔اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ثابت نہ ہوں تو ابراہیمؑ بھی سچے ثابت نہیں ہوتے اوراسمٰعیل بھی سچے ثابت نہیں ہوتے۔جب اسمٰعیل نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا تھا۔اس وقت خدا نے کہا تھا کہ چونکہ اس نے میرے حکم پر اپنے آپ کو مرنے کے لئے پیش کر دیا ہے۔اس لئے میں اسے وہ روحانی اولاد عطا کروں گا جو ساری دنیا کو زندہ کر دے گی اور میں اس ایک موت کے بدلے اس کے سارے خاندان کو حیاتِ ابدی بخشوں گا۔اب اگر خاص نیت اور ارادہ سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو پہلے ظاہر میں قربان ہونے کے لئے پیش نہیں کیا۔ا ور پھر مکہ میں بسائے جانے کے وقت پیش نہیں کیا۔تو ان کی نسل میں اس قسم کا بچہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔لیکن اگر انہوں نے سچی قربانی کی تھی تو ضرور تھا کہ ان کی نسل سے وہ سلسلہ چلتا جو دنیا کو زندگی بخشتا۔پس بہرحال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی سچائی کے ساتھ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی سچائی وابستہ ہے اور یہی حقیقت اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کفار مکہ کے سامنے وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ کے الفاظ میں رکھتا ہے۔کہ تم ابراہیمؑ کو بھی سچا مانتے ہو اور اسمٰعیلؑ کو بھی۔مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تم اس شخص کو جھٹلا رہے ہو جس کی سچائی کے ساتھ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی سچائی وابستہ ہے۔تم یہ تو مانتے ہو کہ ابراہیمؑ نے ایک رسول کے لئے دعا کی تھی۔مگر جب اس دعا کے نتیجہ میں وہ رسول تم میں مبعوث ہو گیا ہے تو تم اس کو جھٹلا رہے ہو۔تم یہ تو مانتے ہو کہ اسمٰعیلؑ نے جب قربانی کی تو خدا تعالیٰ نے اس کی اولاد کے بارہ میں ابراہیمؑ سے وعدے کئے اور کہا کہ اس کی نسل سے ایک ایسا انسان پیدا ہو گا جو دنیا کا مُزَکِّی ہو گا۔مگر جب وہ روحانی فرزند ظاہر ہوگیا تو تم نے اس کا انکار کر دیا۔اب بظاہر تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا انکار کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم نے ابراہیمؑ کا بھی انکار کیا اور تم نے اسمٰعیلؑ کا بھی انکار کیا۔کیونکہ یہ وہ شخص ہے جس کی صداقت پر یہ دونوں انبیاء