تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 320

کرتے ہیں۔کس امر کی شہادت کی؟ یا وہ دونوں کیا شہادت دیتے ہیں؟ اس کے متعلق مفسرین کہتے ہیں۔کہ قسم کا جواب لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ میں بیان ہوا ہے جو آگے آئے گا کہ ہم نے انسان کو کَبَدٍ میںپیدا کیا ہے۔(تفسیر البحر المحیط زیر آیت ’’ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ‘‘) میرے نزدیک یہ درست ہے۔اور جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ایک بڑا قطعی اور یقینی جواب اس قسم کا ہے لیکن جہاں تک ساری آیات کا تعلق ہے میرے نزدیک یہ دوسرا جواب ہے۔پہلا جواب وہی ہے جو پہلی سورتوں میں بیان ہوا۔اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قسم سے پہلے لَا کا لفظ استعمال کیا ہے اور جب لَا کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا کوئی نہ کوئی قرینہ ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لَا کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ اظہار نہیں کیا کہ کس چیز کا انکار کیا گیا ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ فصیح کلام میں لَا کے اظہار کے لئے ضرور کوئی قرینہ ہونا چاہیے۔اور قریبی قرینہ یہی ہوتا ہے کہ ماسبق کی طرف اشارہ سمجھا جائے۔پس جس کی طرف لَا کا اشارہ سمجھا جائے گا اسی کی طرف قسم کا بھی اشارہ سمجھا جائے گا۔میرے نزدیک لَا اُقْسِمُ کے لحاظ سے ایک جواب قسم محذوف ہے۔اور دوسرا جواب جو اس کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہے۔اور جسے تائیدی طورپر پیش کیا جا سکتا ہے وہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ہے۔گویا یہ جواب قسم تو ہے مگر ثانوی جواب ہے۔اصل جواب نہیں۔اصل جواب وہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے اور چونکہ وہ بیان ہو چکا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے حذف کر دیا۔اس لحاظ سے معنی یہ ہوں گے کہ ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس شہر کو ایسی حالت میں جبکہ تو اس میں حِلٌّ ہے۔اور ہم وَالد ابراہیمؑ اور وَلَدَ اسمٰعیل کو بھی اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ہم نے پہلی آیتوں میں جو یہ باتیں بیان کی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی سخت مخالفت ہو گی۔یہاں تک کہ اسے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا مگر آخر وہ کامیاب ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس شہر میں اس کو واپس لائے گا۔یہ ساری باتیں ہو کر رہیں گی۔اسی طرح یہ بھی ہماری قسم کا جواب ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ہم نے انسان کو کبد میں پیدا کیا ہے(آگے جب مضمون آئے گا تو اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا) پس یہ مزید عقلی دلیل ہو گی جو سابق شہادت کے لئے بطور تائیدی گواہ کے سمجھی جائے گی۔لیکن اگر اسی کو جواب قسم سمجھا جائے تو پھر ہم کو یہ سمجھنا ہو گا کہ لَا نے اس دعویٰ کو ردّ کیا ہے جس کا لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ سے استنباط ہوتا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں ہم کو سہولت اور آرام سے بغیر کسی قسم کی قربانی کے ہرترقی مل جائے گی اور ہمیں کچھ کرنا نہیں پڑے گا۔جیسا کہ عدم اکرام ضیف اور عدم تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ وغیرہ حالات سے معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات کو رد کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ سہولت