تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 319
انکار نہیں کر سکتا کہ مکہ کی بنیاد انہوں نے رکھی۔پس جنہوں نے مکہ کو بنایا ہے جنہوں نے خانہ کعبہ کی بنیادوں کو استوار کیا ہے اگر ہم ان کا نام نہیں لیتے اور بغیر تعیین کے مکہ کے ذکر میں باپ بیٹے کے الفاظ سے ان کا ذکر کر دیتے ہیں تو ہرعقل مند انسان سوائے ابراہیمؑ اور اسمٰعیل کے کسی اور شخص کا نام اپنے ذہن میں لا ہی نہیں سکتا۔ہمارے ملک میں عام لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ’’او مدینے والیا‘‘ اب جہاں تک مدینے میں رہنے والوں کا سوال ہے۔اس میں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ اس وقت تک بس چکے ہیں۔اور ان الفاظ سے یہ تعیین نہیں ہوتی کہ کہنے والے نے کس کا ذکر کیا ہے۔آیا اس سے مدینہ کا ہر شخص مراد ہے یا مدینہ کا کوئی خاص شخص مراد ہے۔مگر باوجود اس کے کہ الفاظ میں کسی کی تعیین نہیں ہوتی جب کوئی شخص یہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ ’’او مدینے والیا‘‘ ’’اومدینے والے‘‘ تو ہر شخص کا ذہن فوری طور پر اس امر کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد مدینہ کا ہر شخص نہیں بلکہ اس سے مراد مدینہ کا وہ مقدس انسان ہے جس سے مدینہ کو عزت حاصل ہوئی۔اب دیکھ لو یہ الفاظ ہمارے ملک میں روزانہ استعمال کئے جاتے ہیں۔پنجابی شعراء جب نعت کہتے ہیں تو انہی الفاظ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو مخاطب کرتے ہیں۔مگر کبھی ان الفاظ کے متعلق کسی شخص کے دل میں شبہ پیدا نہیں ہوتا۔وہ کبھی نہیں کہتا کہ یہ تو نکرہ ہے اور اس سے مدینے کا ہر شخص مراد ہو سکتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ گو یہ نکرہ ہے مگر اس سے مراد وہ معرفہ ہے جس سے زیادہ مدینہ کے ذکر میں اور کسی کو تعیین حاصل نہیں۔پس جس طرح روزانہ کہا جاتا ہے ’’او مدینے والیا‘‘ اور اس سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ذات ہوتی ہے۔اسی طرح مکہ کے ساتھ جب بھی ایک باپ اور بیٹے کا ذکر آئے گا لازماً اس سے مراد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام ہی ہوں گے اور کوئی نہیں ہو گا۔پھر یہ بھی ایک غور کرنے والی بات ہے کہ یہاں باپ اور بیٹے کو ملا کر ان کو اکٹھا ذکر کرنے کے کیا معنے تھے۔خالی باپ یا خالی بیٹے کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔اسی لئے کہ ایک باپ اور ایک بیٹا دونوں وجود ایسے تھے جنہوں نے مل کر خانہ کعبہ بنایا۔اس کی تعمیر کی اور پھر ان دونوں سے آئندہ کے لئے ایک سلسلہ ہدایت قائم ہوا۔وہ خالی باپ کا فعل نہیں تھا۔خالی بیٹے کا فعل نہیں تھا بلکہ ایک باپ اور ایک بیٹے کا مشترکہ فعل تھا جو انہوں نے مل کر سر انجام دیا۔اسی لئے قرآن کریم نے صرف باپ یا صرف بیٹے کا ذکر نہیں کیا بلکہ باپ اور بیٹے دونوں کاذ کر کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں جو واقعہ اپنی تمام جزئیات کے ساتھ اس آیت پر چسپاں ہوتا ہو ہمیں تفسیر کرتے ہوئے پہلا حق اسی کو دینا چاہیے۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم اس شہر کو اس حالت میں کہ تو اس میں حِلٌّ ہے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اور اسی طرح اس شہر کی بنیاد رکھنے والے ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو بھی بطور شہادت پیش