تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 312
کوئی انسان اپنی طرف سے یہ بات کہہ سکتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ایک دن مکہ میں سے ہجرت کرنی پڑے گی۔اور لوگوں کو تو جانے دو، خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نہیں سمجھتے تھے اور آپ حیران ہوتے تھے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں مکہ میں سے نکالا جاؤں۔اور جس امر کو آپ نہ سمجھتے تھے اسے کوئی دوسرا کیا سمجھ سکتا تھا۔مگر باوجود اس کے کہ آپ کی اپنی نگاہ میں یہ بات ناممکن تھی مگر مکہ والوں کے حالات کے لحاظ سے یہ بات ناممکن نظر آتی تھی۔پھر بھی خدا کی بات پوری ہوئی۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ایک لمبے عرصہ کے شدید مظالم کے نتیجہ میں مکہ سے ہجرت کرنی پڑی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا مکہ میں واپس آنا کیسا ناممکن نظر آتا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔اس وقت کون شخص خیال بھی کر سکتا تھا کہ رات کی تاریکی میں مکہ سے دو۲ بھاگنے والے ایک دن دس ہزار کا لشکر جرار اپنے ساتھ لئے فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوں گے۔اور مکہ کے بڑے بڑے سردارمسلمانوں کے رحم وکرم پر ہوں گے کہ وہ جیسا چاہیں ان سے سلوک کریں۔اس وقت کون ان باتوں کو اپنے وہم و گمان میں بھی لا سکتا تھا۔اور کون کہہ سکتا تھا کہ وہ کفار جو آج خوش ہو رہے ہیں جو اس خیال سے پھولے نہیں سماتے کہ وہ اسلام کی شوکت کو مٹانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے صرف چند سال کے عرصہ کے اندر اندر وہی شخص جسے مکہ سے نکالا گیا تھا دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں واپس آئے گا۔اور بڑے جاہ و جلال کے ساتھ فرمائے گا کہ اے مکہ والو! بتاؤ اب میں تم سے کیا سلوک کروں۔اور وہ یہ جواب دیں گے کہ وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔ہجرت کے وقت زیادہ سے زیادہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہو گا کہ افسوس ہم آپ کو مار نہ سکے۔اور بعض لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ چلو اچھا ہوا خس کم جہاں پاک (نعوذ باللہ من ذالک) ہماری نگاہوں سے تو وہ اوجھل ہوا۔اب ہمیں اس سے کیا غرض کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ہم نے اسے اپنے شہر سے تو نکال دیا۔اس وقت کون خیال کر سکتا تھا کہ وہی لوگ جو آج یہ کہہ رہے ہیں کہ چلو اچھا ہوا ہمیں چھٹی مل گئی ایک بلا اور مصیبت سے چھٹکارا ہوا۔انہی لوگوں میں وہ ایک فاتح جرنیل کی حیثیت میں واپس آئے گا۔اور پھر کون یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ وہ اتنی جلدی واپس آئے گا کہ لوگوں کے لئے نہ صرف اس کی واپسی بلکہ اس قدر جلد واپسی حیرت انگیز ہو گی۔واقعہ میں اگر غور کیا جائے تو یہ ایک ایسا عظیم الشان نشان ہے جس سے خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی طاقت و جبروت کا نقشہ انسانی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔مکہ سے رات کی تاریکی میں دو۲ بھاگنے والے بھاگے اور اس حالت میں بھاگے کہ انہیں اپنی جان خطرہ میں گھری ہوئی دکھائی دے