تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 311

وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام لیتے اور کہتے یہ وہ فرشتہ ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا یا یہ کہتے کہ تم پر تو کوئی فرشتہ نازل ہی نہیں ہو سکتا۔حضرت عیسٰی علیہ السلام آ چکے اور وہی دنیا کے آخری نجات دہندہ تھے۔اب ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا مگر وہ سنتے ہیں تو یہ کہتے ہیں۔ھَذَا النَّامُوْسَ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی یعنی یہ تو وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ نبی پر وحئ آسمانی لایا تھا۔پھر انہوں نے کہا لَوْ کُنْتُ جَذَعًا اِذْیُـخْرِجُکَ قَوْمُکَ کاش میں اس وقت قوی اور طاقتور ہوتا جب تیری قوم تجھ کو مکہ میں سے نکال دے گی۔اگر مجھ میں ہمت اور طاقت رہی۔اور اگر میں اس وقت زندہ ہوا تو اَنْصُـرْکَ نَصْـرًا مُؤَذَّرًا میں اپنی پوری ہمت اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ تیری مدد کروں گا۔ورقہ بن نوفل کی یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اتنی عجیب تھی کہ آپ اس کو سن کر حیران رہ گئے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ کو الہام ہو چکا تھا آپ نے حیرت سے کہا اَوَ مُـخْرِجِیَّ ھُمْ کیا مکہ کے لوگ مجھ کو نکال دیں گے۔یعنی میرے جیسا پرامن اور صلح پسند انسان جو ہر قسم کے حقوق کو ادا کرنے والا ہے۔اسے مکہ کے لوگ کس طرح نکال سکتے ہیں۔میری ان سے کوئی دشمنی نہیں۔میں ان کا کبھی بد خواہ نہیں ہوا۔میری ان سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔پھر اسی مکہ میں میرے رشتہ دار اور دوست موجود ہیں۔ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے مکہ میں سے نکال دیں۔دنیامیں لوگ اگر کسی کو نکالتے ہیں تو دشمنی کی وجہ سے مگر میری تو کسی سے دشمنی نہیں ہے۔کیا میرے جیسے پرامن کو بھی یہ لوگ نکال دیں گے۔اور اگر نکالیں گے تو کیا جرم ہوگا اور کون سا قصور ہوگا جس کی وجہ سے میں اس مکہ میں سے نکالا جاؤں گا۔کتنے مختصر مگر کتنے گہرے معانی رکھنے والے وہ الفاظ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے اس موقعہ پر استعمال فرمائے۔اَوَ مُـخْرِجِیَّ ھُمْ بظاہر ایک چھوٹا سا فقرہ ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی قلبی کیفیات کی ایک وسیع دنیا ان الفاظ میں آباد ہے۔اگر ایک طرف ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کس قدر صلح اور آشتی اور محبت کے جذبات سے لبریز تھا۔تو دوسری طرف ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا وجود خود مکہ والوں کی نگاہ میں اس قدر محبوب تھا کہ ظاہری حالات کے لحاظ سے یہ بالکل ناممکن نظر آتا تھا کہ وہ آپ جیسے انسان کو مکہ میں سے نکال سکیں گے۔مگر پھر ہوا یہی کہ انہوں نے باوجود آپ کی صلح پسندی کے اور باوجود آپ کے پُر امن ہونے کے آپ کو مکہ میں سے نکال دیا اور خدا کی بات پوری ہوئی۔لوگ کہتے ہیں کہ مخالف حالات کو دیکھ کر بعض دفعہ قبل از وقت ایک رائے کا اظہار کر دیا جاتا ہے اور اس کا نام پیشگوئی رکھ لیا جاتا ہے۔میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں وہ اس پیشگوئی پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا عالم الغیب خدا کے سوا