تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 310
دوسرے معنوں کے رو سے شہادت یہ ہو گی کہ تو اس میں ہر تیر کا نشانہ بنے گا۔اب یہ ایک مبالغہ آمیز امر نہیں۔بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر قسم کے ظلم ہوئے (۱) آپ کو عبادت سے روکا گیا (۲)مارا پیٹا گیا (۳)گالیاں دی گئیں (۴)تعلقات باہمی سے روکا گیا (۵) غذا سے روکا گیا (۶) تبلیغ سے روکا گیا (۷)صحابہؓ کو پتھروں پر گھسیٹا گیا (۸)ہجرت سے روکا گیا۔لوگ مارتے ہیں تو کہتے ہیں نکل جاؤ۔مگر یہاں مارتے بھی تھے اور نکلنے بھی نہیں دیتے تھے۔چنانچہ بعض صحابہ جب ان مظالم سے تنگ آ کر چوری چھپے حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے تو مکہ کے بعض بڑے بڑے رؤسا نجاشی کے پاس پہنچے اور اسے کہا کہ یہ ہمارے غلام ہیں جو ہمارے ملک سے بھاگ کر یہاں آ گئے ہیں۔ان کو واپس کیا جائے گویا ان کی سکیم یہی تھی کہ ہم مسلمانوں کو نہ مکہ میں آرام سے رہنے دیں گے اور نہ ان کو باہر جانے دیں گے۔(۹)عورتوں کو شرمناک طریقوں سے مارا گیا (۱۰) جھوٹے الزامات لگائے گئے کبھی پاگل کہا گیا، کبھی خود غرض کہا گیا، کبھی جھوٹا کہا گیا، کبھی عزت کا متلاشی کہا گیا، کبھی کاہن اور کبھی دوسری کتب سے چرا کر مضمون بنانے والا کہا گیا غرض کوئی تیر نہ تھا جو مکہ والوں نے آپ پر نہ چلایا ہو۔تیسرے معنے یہ تھے کہ تو اس شہر میں سے جا کر پھر اترنے والا ہے۔یعنی یہ شہر دو۲ زبردست ثبوت اسلام کی صداقت کے پیش کرے گا۔اوّل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی ہجرت کا اور پھر آپ کے واپس آنے کا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ محال تھے۔مکہ والے اس سورۃ کے نزول کے وقت میں یا آپ کو ناقابل التفات سمجھتے تھے۔یا آپ کو ایک قابل احترام وجود سمجھتے تھے۔دونوں حالتوں میں آپ کے اخراج کا کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا تھا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اپنا نکالا جانا اس قدر ناممکن نظر آتا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو پہلا الہام ہوا۔اور آپ گھبراہٹ اور اضطراب کی حالت میں گھر تشریف لائے تو آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔وہ آ پ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی اور بائیبل کے بہت بڑے عالم تھے اور ان سے ان الہامات کا ذکر کیا۔ورقہ بن نوفل نے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حالات دریافت کئے۔اور آپ نے وہ تمام واقعہ تفصیل کے ساتھ سنایا جو غارِ حرا میں آپ کے ساتھ گذرا تھا۔ورقہ بن نوفل آپ کی گفتگو سننے کے بعد کہنے لگے۔اس پر تو وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا۔اس جگہ ضمنی طور پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ ورقہ بن نوفل عیسائی تھے اور وہ صحف مقدسہ کا اکثر مطالعہ رکھا کرتے تھے۔اگر وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھی کسی ویسی ہی شریعت کا بانی سمجھتے جس قسم کی شریعت کے بانی حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے تو وہ قطعاً یہ نہ کہتے کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔بلکہ