تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 309

وہ دوسرے کی بھینس چوری کرے۔یا اس نے ارادہ کیا کہ وہ دوسرے کے گھر پر قبضہ کر لے۔اب اگر وہ اپنے ارادہ کا علم رکھتے ہوئے دوسرے کو قبل از وقت خبر دے دے کہ فلاں شخص فلاں دن مجھ سے لڑے گا۔تو یہ ہرگز پیشگوئی نہیں ہو گی۔کیونکہ یہ فساد اس کے نفس کی طرف سے ہے اور وہ اپنے ارادوں کو جانتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ فلاں فلاں شخص میرے ساتھ لڑائی کریں گے۔لیکن اگر اس کی طرف سے صلح کے سامان ہو رہے ہوں محبت اور پیار کی تعلیم دی جا رہی ہو تو ایسی حالت میں کسی مخالفت کے متعلق قیاس نہیں کیا جا سکتا۔پس مخالفت خود اکسا کر لانا اور شے ہے اور امن پسند ہونے کے باوجود لوگوں کا مخالفت کرنا اور امر ہے۔کسی کے گھر پر تم قبضہ کر لو تو وہ ضرور لڑے گا۔اور اس فساد کی تم اپنے ارادہ کو جانتے ہوئے قبل از وقت خبر بھی دے سکتے ہو۔مگر تم اپنے گھر میں بیٹھے ہو اور کوئی دوسراشخص تمہارے گھر پر آ کر قبضہ کر لے تو تم کو اس کا کیا علم ہو سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے دشمنوں کا مقابلہ ایسا ہی تھا۔آپ صلح و آشتی کا پیغام دیتے تھے اور مخالفین مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے تھے۔آخروہ کون سی چیز تھی۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دعویٰ کے تین سال بعد مسلمانوں میں زائد طور پر پیدا ہو گئی تھی اور جس کی بنا پر انہوں نے مخالفت کرنا ضروری سمجھا۔نمازیں وہ پہلے بھی پڑھا کرتے تھے نیکی اور تقویٰ کی وہ پہلے بھی ترغیب دیا کرتے تھے۔وہ پہلے بھی یہی کہا کرتے تھے کہ خدا ایک ہے اور وہی انسانوں کا مددگار ہے۔اسی پر بنی نوع انسان کو توکل رکھنا چاہیے۔اور اسی سے اپنی حاجات مانگنی چاۂیں۔وہ پہلے بھی یہی کہا کرتے تھے کہ کفر بری چیز ہے اور اسلام سچا مذہب ہے۔پس کون سی وہ زائد بات تھی جس پر مکہ والوں کو جوش آ سکتا تھا یا انہیں جوش میں آنا چاہیے تھا۔یقیناً جہاں تک اعتقادات کا سوال ہے مسلمانوں میں کوئی زائد چیز ایسی پیدا نہیں ہوئی جس پر ان کو تین سال کے بعد غصہ پیدا ہوا۔اور انہوں نے مسلمانوں کو مبتلائے آلام کرنا شروع کر دیا۔پس تین سال کے بعد اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کو مخالفت کی خبر دینا اس لئے نہیں تھا کہ مسلمانوں کے مذہب یا ان کے اعتقادات کا کفّار مکہ کو پہلے علم نہیں تھا۔بلکہ اس لئے تھا کہ اب مسلمانوں کو ایسی ترقی حاصل ہو رہی تھی۔کہ کفار یہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ اب ہمارے لئے یہ ایک مستقل خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسی طاقت دے دینا جس سے کفار کو اپنے لئے حقیقی خطرہ نظر آنے لگ گیا۔یہ کس کا کام تھا۔اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔پس کفار مکہ کی مخالفت کی خبر دینا کوئی قیاسی امر نہیں تھا بلکہ ایک آسمانی خبر تھی جو علم غیب پر مشتمل تھی اور جس کی صداقت کی انہوں نے اپنے اعمال سے تصدیق کر دی۔