تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 305
اس شہر میں اسی صورت میں اتر سکتے تھے جب آپ کو پہلے اس شہر سے نکالا جاتا۔گویا ایک ہی فقرہ میں ہجرت کی بھی خبر دے دی اور فتح مکہ کی بھی خبر دے دی۔اس طلوع فجر کی بھی پیشگوئی کر دی جو لیالی عشـر کے بعد ظاہر ہونے والی تھی اور اس دوسری فجر کی بھی پیشگوئی کر دی۔جو گیارھویں رات کے بعد ظاہر ہونے والی تھی۔اور جس کا آغاز بدر سے ہوا اور جس کا اتمام فتح مکہ پر ہوا۔پھر یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے ظلموں کا نتیجہ ان کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔کیونکہ اگر یہ ظلم نہ کرتے۔تو شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ہم صلح کے ساتھ اس شہر میں لاتے۔مگر چونکہ انہوں نے ظلم کیا ہے اور بلد اللہ الحرام کو حلال کر لیا ہے اس لئے کچھ وقت کے لئے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار کے زور سے اس شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیں گے اور پھر جو ان کی ذلت و رسوائی ہو گی اس کے وہ خود ذمہ وار ہوں گے۔پھر یہ بتایا کہ تو اس شہر کا مقصود ہے۔یعنی پیشگوئیاں شروع دن سے جب سے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہماالسلام نے خانۂ کعبہ کی بنیاد ڈالی تیری طرف اشارہ کر رہی تھیں اور اسی وقت سے یہ خبر دے دی گئی تھی کہ ایک عظیم الشان نبی آنےو الا ہے جس کا کام یہ ہو گا کہ وہ تلاوت آیات کرے گاا ور تزکیۂ نفوس کرے گا اور کتاب اور حکمت سکھائے گا جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کی خانہ کعبہ کی بنیاد اونچی کرنے کے وقت کی دعا سے معلوم ہوتا ہے۔جو سورۂ بقرہ میں ان الفاظ میں ذکر کی گئی ہے کہ وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ (البقرۃ: ۱۳۰) یعنی اے خدا مکہ کے رہنے والوں میں رسول مبعوث فرما جو تیری آیات ان لوگوں پر پڑھے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہی یہ پیشگوئی تھی اور آپ ہی اس شہر کے مقصود تھے۔اس لئے فرمایا کہ جب اس شہر کی بنیاد محض تیرے لئے رکھی گئی تھی تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مقصد پورا نہ ہو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کارخانۂ عالم کو قائم کیا تھا۔اس مقصد کا پورا ہونا تو نہایت ضروری ہے۔چنانچہ شروع سے ہی جب یہ بنیاد ابھی ظاہر بھی نہیں ہوئی تھی۔حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا مکہ میں آنا، عربوں کا رجوع، اس شہر کا فتنوں سے پاک رکھنا اور غیر مذاہب کے اثرات سے اس کا محفوظ رہنا یہ ساری باتیں آخر کس لئے تھیں۔اسی لئے تو تھیں کہ تو اس شہر کا مقصود تھا۔اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ دنیا میں تیری بعثت ہو۔مکہ ایک بے آب وگیاہ وادی میں تھا۔کوئی مہذب قوم اس کے اردگرد نہیں رہتی تھی۔بلکہ وہ ظالم اور ڈاکو جو کسی قانون کے ماتحت نہیں تھے اس کے چاروں طرف بستے تھے۔ان کا دن رات کام یہی تھا کہ وہ آپس میں لڑتے رہیں اور کشت وخون کا بازار گرم رکھیں۔مگر ایسے ظالم اور ڈاکو بھی جب لڑتے ہوئے مکہ کے سامنے آتے