تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 301
زمانہ میں مسلمانوں پر صرف دینی علماء نے ظلم نہیں کئے۔کاہنوں نے ظلم نہیں کئے۔بتوں کے پجاریوں نے ظلم نہیں کئے بلکہ ہر ایک نے ظلم کئے ہیں۔حتی کہ ماں باپ نے بھی ظلم کئے ہیں۔ایک نوجوان جو ابھی پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔ماں نے غصہ میں آ کر اس کے برتن الگ کر دئیے اور کچھ مدت تک دیکھا کہ اس پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں۔مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔اسے ماں باپ نے بہتیرا سمجھایا اور جب وہ زبانی سمجھانے سے باز نہ آیا تو اسے مارا پیٹا۔مگر اس نے اسلام کو ترک کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا۔آخر ایک دن اسے ماں باپ نے کہہ دیا کہ تو ہمارے گھر سے نکل جا۔وہ نوجوان گھر سے نکلا اور چند دن مکہ میں کئی قسم کی تکالیف اٹھانے کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا (اسد الغابۃ جلد اوّل صفحہ ۶۵۵ زیر حالات خالد بن سعید بن العاص )۔جب سورۂ نجم والے واقعہ کی خبر حبشہ میں پہنچی یا جیسا کہ میری تحقیق ہے۔سورۂ نجم والے واقعہ کا منصوبہ بنا کر مکہ والوں نے اس کی خبر حبشہ میں پہنچائی تو کئی مسلمان یہ خبر سن کر حبشہ سے واپس آ گئے۔انہی میں وہ نوجوان صحابی بھی تھا۔وہ اپنے گھر گیا اور اس نے سمجھا کہ شاید اب ان کا غصہ تھم چکا ہوگا۔اس کے ماں باپ نے بڑے جو ش سے اس کا استقبال کیا۔اسے اپنے گلے سے لگایا اور پیار کیا اور سمجھا کہ اب جو یہ ہمارے گھر آیا ہے تو شاید اسلام سے توبہ کر کے آیا ہے اور اس نوجوان نے خیال کیا کہ میری کئی مہینوں کی جدائی اور مکہ کو چھوڑ کر چلے جانے کا میرے ماں باپ پر یہ اثر ہوا ہے کہ ان کے دل نرم ہوگئے ہیں اور ان میں بھی رحم کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔مگر ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ ماں نے اسے کہا کہ شکر ہے کہ تیری بھی آنکھیں کھلیں اور تجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے اس صابی (نعوذ باللہ من ذالک)سے تعلق پیدا کر کے اچھا کام نہیں کیا تھا۔اب میری یہی نصیحت ہے کہ اُ س صابی (نعوذ باللہ من ذالک) کے پاس کبھی نہ جانا۔وہ لڑکا اسی وقت کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا اے میرے ماں تو میری ماں ہے اور اے میرے باپ تو میرا باپ ہے لیکن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے لئے میں ہرقسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس راہ میں کسی بڑی سے بڑی مشکل کی بھی میں پروا نہیں کر سکتا اگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے متعلق پھر کوئی ایسا لفظ تم نے اپنی زبان سے نکالا تو نہ تم میری ماں ہو، نہ تم میرے باپ ہو۔انہوں نے کہا اچھا اگر یہ بات ہے تو پھر توبھی ہمارا بیٹا نہیں۔یہ سنتے ہی وہ اپنے گھر سے باہر نکل گیا اور پھر ساری عمر اس نے اپنے ماں باپ کی صورت نہیں دیکھی۔اب دیکھو یہ تیر تو چلے پر کہاں سے؟ اس جگہ سے تیر چلے جہاں سے انسان آخری وقت میں بھی تیر چلنے کی امید نہیں رکھتا اور ان ہاتھوں سے چلے جو عام طور پر تیر چلانے کی بجائے دوسروں کے تیر اپنے ہاتھوں پر