تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 300

جان لینا سخت گنا ہ ہے، کسی پر ظلم کرنا سخت گناہ ہے۔اتنے لمبے عرصہ کے عقیدہ کے بعد کس کو یہ امید ہو سکتی تھی کہ یہ قوم ایک دن مسلمانوں پر یک دم ٹوٹ پڑے گی۔اور ان کی عورتوں اور ان کے بچوں ان کے غلاموں اور ان کے آزادوں پر دانت پیستے ہوئے انہیں حدود حرم میں ہی مظالم کا نشانہ بنانا شروع کر دے گی۔یہ امید کسی شخص کو بھی نہیں تھی۔مگر م ہوا یہی کہ مکہ والوں نے اپنے تمام اعتقادات کو پس پشت ڈال دیا۔اور مسلمانوں کو مکہ میں اپنے مظالم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ تو اس شہر میں ہر تیر کا نشانہ بنے گا۔یعنی ہر قسم کے مظالم تم پر اور تمہاری جماعت پر توڑے جائیں گے۔یوں تو دنیا میں کبھی رحم دل بھی جوش میں آکر دوسرے کو سزا دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اور کبھی جوش پیدا ہونے کی وجہ سے وقتی طور پر انسان کسی وحشیانہ حرکت کا بھی ارتکاب کر لیتا ہے۔لیکن لمبی تعذیب جو مارنے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔اس کا امکان ایسے لوگوں سے جو ۲۵سو سال سے ایک خاص قسم کا عقیدہ رکھتے چلے آ رہے ہوں بہت ہی بعید اور دورازقیاس تھی اور کوئی شخص یہ امیدبھی نہیں کر سکتا تھا کہ مکہ والوں کی طرف سے ہر قسم کے مظالم کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے قبل ازوقت فرما دیا کہ تم مت خیال کرو کہ یہ قوم تم پر ظلم نہیں کرے گی۔یا تمہیں معمولی تکالیف دینے پر اکتفا کرے گی۔یہ وہ قوم ہے جو ہر قسم کے مظالم کا دروازہ تم پر کھول دے گی اور ہر قسم کے تیروں کا تمہیں ہدف بنالے گی۔جو تیر بھی اٹھے گا اس کا نشانہ مسلمانوں کے سینے ہوں گے۔اور جو ظلم بھی توڑا جائے گا مسلمانوں پر توڑا جائے گا۔چنانچہ اس پیشگوئی کی صداقت کفار مکہ نے اپنے مظالم کے ذریعہ روزروشن کی طرح ظاہر کر دی۔دنیا میں ظلم ہوتے ہیں مگر دشمنوں کی طرف سے اگر مذہبی بنا پر کوئی مخالفت ہو تو زیادہ تر علماء مخالف ہوتے ہیں۔ماں باپ اور بھائی وغیرہ مذہبی اختلاف کے وقت زیادہ مخالفت نہیں کرتے۔بلکہ اگر کسی کا بچہ کسی اور مذہب میں شامل ہو جائے تو ماں باپ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کی بھی ایک رائے ہے اور ہماری بھی ایک رائے ہے ہم نہیں جانتے کہ سچ کیا ہے۔یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے بچے کی یہ غلطی ہے کہ اس نے دوسرا مذہب اختیار کر لیا۔لیکن غلطیاں دنیا میں کس سے نہیں ہوتیں۔گویا عام طور پر مذہبی اختلاف پر مظالم ڈھانے کی بجائے لوگ اپنے بچوں اور اپنے بھائیوں کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کی طرف سے کئی قسم کے عذرات اور حیلے بہانے پیش کئے جاتے ہیں۔لیکن یہاں فرمایا کہ ہر قسم کے تیر تم پر چلائے جائیں گے۔یعنی ماں تمہاری ماں نہیں رہے گی باپ تمہارا باپ نہیں رہے گا اور تمہیں ہر قسم کے مظالم کا نشانہ بنایا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے