تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 294
حِلّ ہے جب تک مکہ اس حال سے متصف نہیں ہوا تھا۔اس کا نشان اپنی ذات میں اتنا اہم نہیں تھا جتنا اب ہوجائے گا۔اس لئے کہ پہلے مکہ مکرمہ اور بات کے ثبوت کے لئے تھا اور اب مکہ مکرمہ اور بات کے ثبوت کے لئے پیش ہونے والا ہے پہلے مکہ مکرمہ ثبوت تھا اس بات کا کہ حضرت ابراہیمؑ خدا کے نبی تھے یا حضرت اسمٰعیلؑ خدا کے نبی تھے۔لیکن اب یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خدا کے نبی ہیں اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے بغیر مکہ صرف ان نشانات کا شاہد تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ وابستہ تھے۔لیکن اب یہ ان نشانات کا بھی شاہد ہو گا۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کے ساتھ وابستہ ہوں گے۔پس اس حال نے مکہ کو نیا رنگ دے دیا ہے۔پہلے مکہ صرف ابراہیمؑ یا اسماعیل ؑ کی صداقت کا ثبوت تھا۔اور اب یہ ثبوت ہو گا اس بات کا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو اپنے مقصد میں ناکام نہیں کر سکتی۔پس اس حال کا یہ مطلب نہیں کہ مکہ صرف اس حال میںشہادت ہے پہلے بطور شہادت اسے پیش نہیں کیا گیا۔بلکہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ہم اس وقت اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں پیش کر رہے ہیں۔اگر اس نقطۂ نگاہ کو لیا جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ نشانات دکھائے خدا تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت سے دکھائے تھے۔اس وجہ سے مکہ مکرمہ خدا کے وجود کا ایک ثبوت تھا۔تو پھر یہ اکٹھا ثبوت بن جائے گایعنی مکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی صداقت کا بھی ثبوت ہو گا۔اور مکہ اس بات کا بھی ثبوت ہوگا کہ خدا موجود ہے کیونکہ حضرت ابراہیمؑ یا حضرت اسمٰعیلؑ نے جو کچھ کیا خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا۔اور جو کچھ ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوا خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا۔پس جہاں نشانات اور پیشگوئیوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی صداقت کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا۔وہاں خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زندہ ثبوت بھی لوگوں کے سامنے پیش کر دیا اس لحاظ سے وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے یہ معنی ہوں گے کہ مکہ مکرمہ پہلے بھی خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت تھا۔مگر اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اب تیرے آنے سے یہ ثبوت اور بھی نمایاں ہو گا۔کیونکہ تیرے آنے سے خدا تعالیٰ کی طاقتوں اور اس کی قدرتوں کا دنیا میں غیر معمولی ظہور ہو گا۔اور ایسے ایسے نشانات ظاہر ہوں گے جو دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کی تفسیر حِلٌّ کے پہلے معنے کے لحاظ سے حِلٌّ کے مختلف معانی جو اوپر بیان کئے جاچکے ہیں ان کے لحاظ سے پہلے معنی وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے یہ ہوئے کہ ہم اس شہر کو پہلے