تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 293

تفسیر۔اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے متعلق علامہ زمخشری لکھتے ہیں کہ یہ جملہ معترضہ ہے جو درمیان میں آ گیا ہے لیکن بحر محیط والے کہتے ہیں کہ یہ جملہ حالیہ ہے (تفسیر بحر مـحیط زیر آیت ’’اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ‘‘) میرے نزدیک جہاں تک متبا درالی الذہن معنوں کا سوال ہے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں واؤ حالیہ ہی زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس حال میں تو مکہ شہادت ہے لیکن اس کے بغیر کسی روحانی امر کی شہادت مکہ مکرمہ پیش نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی حال تو اس قسم کا ہوتا ہے کہ وہ کسی مزید شہادت کا موجب نہیں ہوتا۔لیکن بعض جگہ حال اس شہادت کو دوہرا رنگ دے دیتا ہے اور ایک ہی چیز دو یا دو سے زائد باتوں کے لئے بطور شہادت پیش ہو جاتی ہے۔گویا پہلے تو وہ صرف ایک چیز کی شہادت کا موجب ہوتی ہے۔مگر اس حال کے ساتھ مل کر دوہری شہادت کا موجب بن جاتی ہے۔پس بِھٰذَا الْبَلَدِ کا حال وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کو قرار دینا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ شہادت کے طور پرمکہ کو اس حال میں پیش کیا جاتا ہے جو یہاں بیان کیا گیا ہے مگر اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہیں کہ دوسری صورت میں وہ کوئی نشان نہیں بلکہ یہ حال مزید شہادت کا موجب ہے۔ورنہ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ مکہ وہ شہر ہے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی بنیادیں استوار کیں۔اور اس نشان عظیم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے تمام عرب کا مرجع بنا دیا۔پھر مکہ مکرمہ وہ شہر ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی پیدائش سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم الشان نشان دکھایا کہ ابرہہ اپنے لشکر سمیت اس پر حملہ آور ہوا تو خدا تعالیٰ نے اسے اور اس کے لشکر کو تباہ و برباد کر دیا۔اسی طرح چاہ زمزم خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان تھا۔جو مکہ مکرمہ میں پایا جاتا تھا۔پھر صفا اور مروہ خدا تعالیٰ کے ایک بہت بڑے نشان کی زندہ یادگاریں تھیں جن کو دیکھ کر انسان کا ایمان تازہ ہوتا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھتا تھا جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی اولاد کے بڑھنے کے متعلق کئے۔غرض مکہ مکرمہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے بغیر بھی اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان تھا جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ہر وہ شخص جس کے دل میں ایک ذرّہ بھر بھی ایمان ہو جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے والی آنکھ رکھتا ہو جو روحانی نابینائی سے محفوظ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ابراہیمی نشانات کی وجہ سے ایک ممتاز مقام تھا۔اور وہ اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کے وجود کا ایک زندہ گواہ تھا۔پس لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس حال کے بغیر مکہ کوئی نشان نہیں تھا۔یا وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی کوئی شہادت اپنے اندر نہیں رکھتا تھا۔بلکہ اس حال کے معنی یہ ہیں کہ یہ وہ مقدس مقام ہے جس میںعلاوہ اور نشانات کے یہ بھی ایک عظیم الشان نشان پایا جاتا ہے کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ تو اس شہر میں