تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 285

قومی ترقی کا یہی نکتہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ اے نفس مطمئنہ یعنی پہلاانسان تو وہ تھا جس میں یہ چار خصلتیں مفقود تھیں مگر تو وہ ہے جس میں یہ چاروں خوبیاں پائی جاتی ہیں اس لئے تجھے نفسِ مطمئنہ حاصل ہے ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً اے میرے بندے تو نے دنیا میں رہ کر وہ کام کر لیا جس کےلئے میں نے تجھے پیدا کیا تھا اس لئے تو بھی خوش ہے کہ میں نے کام کر لیا اور ہم بھی خوش ہیں کہ تو نے کام کر لیا۔تو ہم سے خوش ہے اور ہم تجھ سے خوش ہیں۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْۙ۰۰۳۰ پھر (تمہارا رب تمہیں کہتا ہے کہ) میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔تفسیر۔فرماتا ہے اب تو ہمارے بندوں میں داخل ہو جا یعنی جس طرح انسان اپنے ماتحت افراد یا اپنی مملوکہ اشیاء کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح اب تجھ پر حملہ کرنا مجھ پر حملہ کرنا ہے۔تجھے دکھ دینا میری غیرت کو بھڑکانا ہے۔تو میرے غلاموں میں داخل ہو گیا ہے اب کسی کی مجال نہیں کہ وہ تجھ پر ہاتھ ڈال سکے۔اگر اس کے بعد بھی کسی شخص نے تجھ کو غلام بنانا چاہا تو چونکہ تو میرا غلام ہے اس لئے میں خود اس سے لڑوں گا اور اسے اس اہانت کی سزا دوں گا۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْؒ۰۰۳۱ اور (آ) میری جنت میں بھی داخل ہو جا۔تفسیر۔دنیا میں لوگ غلاموں سے بڑی بڑی خدمتیں لیتے اور انہیں کئی قسم کے عذابوں میں مبتلا رکھتے ہیںمگر فرماتا ہے جو میرا غلام بن جائے میں اسے اپنی جنت میں لے جاتا ہوں۔تو چونکہ میرا غلام بن گیا ہے اس لئے اے میرے بندے آ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔