تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 284

يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُۗۖ۰۰۲۸ اے نفس مطمئنہ! ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًۚ۰۰۲۹ اپنے رب کی طرف لوٹ آ (اس حال میں کہ تو اسے) پسند کرنے والا بھی (ہے) اور اس کا پسندیدہ بھی (ہے) تفسیر۔نفس مطمئنہ سے مراد وہ نفس ہے جس میں اوپر کی بیان کردہ چاروں خوبیاں پائی جاتی ہوں۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جس قوم میں یہ چار خوبیاں پیدا ہو جائیں وہ ہر قسم کے تنزل اور ادبار کے خوف سے مطمئن ہوجاتی ہے۔جب یتیم پروری کا مادہ قوم کے ہر فرد کے دل میں پیدا ہو جائے انہیں اپنی موت سے کیا گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے یا جب مساکین کی خبرگیری کا احساس ہر شخص کے دل میں پیدا ہو جائے اور وہ ایک دوسرے کو اس کی تحریک کرتے رہتے ہوں تو قومی جنگوں کے وقت انہیں کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔مساکین جن کا بوجھ قوم اٹھا رہی ہو گی آگے بڑھیں گے اور ہر قسم کی تکلیف کو خوشی سے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے وہ سمجھیں گے کہ جب قوم ہمارا خیال رکھتی ہے، ہمارے لئے کھانا مہیا کرتی ہے، ہمیں کپڑے پہناتی ہے، ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہے تو اب ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم قومی مصیبت میں اس کا ہاتھ بٹائیں اور اس کی عزت کو برقرار رکھنے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔یا جب اسراف کی عادت قوم کے کسی فرد کو نہیں ہو گی تو نکما پن ان میں کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ان کو خواہ لاکھوں کی جائیداد مل جائے انہیں محنت سے کوئی عار نہیں ہو گی اور جن لوگوں کو محنت سے عار نہ ہو جو کروڑ پتی ہونے کے باوجود خود کماکر کھانے کے عادی ہوں یا روپیہ کو قومی ضروریات پر صرف کرتے ہوں ان کا وجود قوم کے لئے ترقی کا ہی باعث ہو سکتا ہے تنزل کا باعث نہیں ہو سکتا۔یا جب ان کے دلوں میں مال کی محبت نہیں ہو گی تو غداری کرنے والے لوگ ان میں کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں اور انہیں اپنے متعلق کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے وہ قوم یقیناً مطمئن ہو گی جان کی قربانی کا سوال آئے گا تو لوگ کہیں گے ہمیں اپنی جانوں کی پروا نہیں۔ہماری قوم یتیموں کی پرورش کرے گی۔اگر مال کی قربانی کا سوال آئے گا تو لوگ کہیں گے ہمیں اپنے مالوں کی پروا نہیں۔ہماری قوم وہ ہے جو اپنے مساکین کا خیال رکھتی ہے اس لئے ہم ہر خطرہ سے بے نیاز ہو کر قربانی کی آگ میں اپنے آپ کو جھونکنے کے لئے تیار ہیں اور ہمیں اپنے عواقب سے پوری طرح اطمینان ہے۔