تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 281
ضروری ہے کہ وہ یہ چار باتیں اپنے اندر پیدا کرلے اور پوری مضبوطی کے ساتھ ان پر قائم رہے۔اگر ہمارے مبلّغ اور ہمارے معلّم اور ہمارے صدر اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ہم نے یتامیٰ کی خبر گیری کرنی ہے ہم نے ان کو صرف کھانا ہی نہیں کھلانا بلکہ ان کا اکرام کرنا ہے، اگر وہ سمجھیں کہ ہم نے مساکین کو کھانے پینے کے لحاظ سے ہر قسم کی تکالیف سے محفوظ رکھنا ہے، اگر وہ خیال رکھیں کہ ہم نے لوگوں میں کام کرنے کی عادت پیدا کرنی ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم میں سے کوئی شخص اپنے باپ دادا کی جائیداد لے کر بیٹھ جائے اور خود کوئی کام نہ کرے اگر ایک شخص کروڑ پتی بھی ہے مگر وہ صرف اپنے باپ دادا کی جائیداد پر بیٹھا ہوا ہے خود کوئی کام نہیں کرتا تو قوم کو اس کی ذرا بھی عزت نہیں کرنی چاہیے اس کے متعلق یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ بڑا رئیس ہے بلکہ اسے چوہڑوں اور چماروں سے بھی زیادہ ذلیل اور بد ترسمجھنا چاہیے۔اسی طرح اگر قوم میں کوئی شخص ایسا ہو جو مال سے محبت رکھتا ہو تو جماعت کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ وہ شخص ہے جو کسی وقت ہمارے لئے غدّار ثابت ہو گا اور جب بھی اسے موقع ملے گا روپیہ کے ڈر کے مارے دشمن سے مل جائے گا۔اگر یہ چار باتیں تم اپنے اندر پیدا کر لو تو چاہے تمہارے دشمن لاکھ ہوں، کروڑ ہوں، دس کروڑ ہوں وہ کروڑیا دس کروڑ چڑیاں ہوں گی اور تم ان کے مقابلہ میں باز ہو گے۔كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ۰۰۲۲ خبردار! جب زمین ہلا کر ہموار کر دی جائے گی۔وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ۰۰۲۳ اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے اس کے ساتھ صف باندھے ہوں گے۔حلّ لُغات۔دُکَّت۔دُکَّتْ۔دَکَّ سے مجہول مؤنث کا صیغہ ہے اور دَکَّ الْاَرْضَ کے معنے ہیں سَوّٰی صَعُوْدَھَا وَھَبُوْطَھَا وَکَسَـرَ حُفْرَتَـھَا بالتُّـرَابِ وَسَوّٰھَا یعنی زمین کے اونچے نیچے کو برابر کر دیا (اقرب) پس دُکَّتِ الْاَرْضُ کے معنے ہوں گے جب زمین ہموار کر دی جائے گی۔تفسیر۔فرماتا ہے کَلَّا تم میں یہ باتیں نہیں ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔تم خوب یاد رکھو جب زمین کو ہلایا جائے گا اور وہ وقت آئے گا جس کی اِذَازُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا (زلزال:۲) میں خبر دی گئی ہے اور خدائی فیصلے کا دن آ جائے گا۔اس دن خدا اپنے فرشتوں کی صفوں