تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 24

کیوں نہ قرآن کریم کے متعلق بھی یہی بات تسلیم کر لی جائے کہ بے شک یہ ضروری ہے مگر صرف اپنے زمانہ کے لئے۔ہمیشہ کے لئے نہیں۔چنانچہ بہائی یہی کہتے ہیں کہ جب باقی شریعتیں منسوخ ہو گئیں تو تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ قرآن کبھی منسوخ نہیں ہو گا۔اس سوال کا بھی اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں جواب دیا ہے اور بتایا ہے کہ ہم تمہارے سامنے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ کیوں پہلی شریعتیں منسوخ ہوئیں اور کیا دلیل ہے اس بات پر کہ قرآن کبھی منسوخ نہیں ہو گا۔آخری موعود کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی تین قسم کی تسبیحیں یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ جن سورتوں میں مسیح موعودؑ کا ذکر آتا ہے ان میں تسبیح کا خاص طور پر ذکر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعودؑ کے ساتھ تسبیح کا کوئی خاص جوڑ ہے۔یہ تو نہیں کہ جہاں بھی مسیح موعودؑ کا ذکر آیا ہو وہاں تسبیح کا بھی ذکر ہو بلکہ وہ سورتیں جن میں خصوصیت کے ساتھ مسیح موعودؑ کا ذکر کیا گیا ہے ان سورتوں میں تسبیح کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ مسیح موعودؑ کا خاص طور پر ذکر سورۂ صف، سورۂ جمعہ اور سورۃ الاعلیٰ میں آتا ہے۔بعض اور سورتیں بھی ہیں جن میں مسیح موعودؑ کا ذکر آتا ہے جیسے اس سے پہلی تین چار سورتوں کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے لیکن ان تین سورتوں میں خصوصیت کے ساتھ مسیح موعودؑ کا ذکر آتا ہے۔ان میں سے سورۂ صف کو سَبَّحَ سے شروع کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔پھر سورۂ جمعہ کو یُسَبِّحُ سے شروع کیا گیا ہے۔فرماتا ہے یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔اور سورۃ الاعلیٰ کو سَبِّحْ سے شروع کیا گیا ہے۔فرماتا ہے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى۔گویا تینوں افعال کا استعمال کیا گیا ہے۔ماضی، مستقبل اور امر۔سَبَّحَ خالص ماضی پر دلالت کرتا ہے۔یُسَبِّحُ حال اور استقبال دونوں پر دلالت کرتا ہے۔کیونکہ مضارع کے معنوں میں حال کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور استقبال کا بھی۔اور امر ہمیشہ استقبال کے متعلق ہوتا ہے۔جب ہم کسی کو کہتے ہیں تو ایسا کر تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو اس وقت نہیں کر رہا بلکہ ہمارے کہنے کے بعد کرے گا۔پس امر ہمیشہ استقبال کے زمانہ پر دلالت کرتا ہے۔پس ان تین صیغوں یعنی ماضی، مضارع اور امر کو استعمال کر کے تینوں زمانوں کی تسبیح مسیح موعودؑ کے ذکر میں بیان کی گئی ہے یعنی تینوں قسم کی تسبیحیں اس کے زمانہ میں ہوں گی۔ماضی کی بھی، حال کی بھی اور استقبال کی بھی۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جس کو تفصیلی طور پر یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔میں نے صرف اشارہ کر دیا ہے کہ ان تینوں سورتوں میں تین افعال استعمال کئے گئے ہیں اور اس طرح مسیح موعودؑ کے ذریعہ سے تسبیح کی تکمیل کا وعدہ کیا گیا ہے۔