تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 269

تمہیں نعمتیں دیں اور اس لئے دیں کہ تم غریبوں پر خرچ کرو مگر تم نے روپوں کو اپنی جیب میں ڈالا۔یتامیٰ ومساکین کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور شراب اور ناچ گانوں میں اپنی دولت کو برباد کرنا شروع کر دیا اور جب تمہاری دولت سب برباد ہو گئی تم یہ شور مچانے لگ گئے کہ خدا نے ہمیں رسوا کر دیا۔بجائے اس کے کہ ان تمام حالات کو تم اصل روشنی میں دیکھتے تم نے الٹا اسے غلط رنگ دے دیا۔کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ تمہاری حالت کس قدر گر چکی ہے۔کتنی کمینگی اور بے حیائی تم میں پیدا ہو چکی ہے تم یتیموں کا مال لیتے ہو اور اسے شیرمادر کی طرح ہضم کر جاتے ہو۔تمہیں ورثہ میں بڑی بڑی جائیدادیں ملتی ہیں، زمینیں ملتی ہیں، کوٹھیاں ملتی ہیں، روپیہ ملتا ہے مگر تم وہ تمام جائیداد عیاشی میں برباد کر دیتے ہو۔باپ روپیہ کما کما کر تھک جاتا ہے اور تم صاحبزادے بن کر اس کا سب مال اڑا دیتے ہو اور پھر یہ کہتے ہو لوگ ہماری عزت نہیں کرتے۔وہ تمہاری کیوں عزت کریں۔جانتے ہیں کہ تمہارا برا حال ہے۔بجائے اپنی جائیداد کو بڑھانے کے اور بجائے غریبوں کی خبرگیری کرنے کے تم میں سے کوئی اچھے کھانے کھانے لگ جاتا ہے، کوئی اچھے لباسوں پر اپنا روپیہ برباد کر دیتا ہے، کوئی شراب میںمشغول ہو جاتا ہے، کوئی ناچ گانوں میں اپنی عمر ضائع کر دیتا ہے، کوئی عیاشی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر زبانوں پر یہ شکوہ ہوتا ہے کہ لوگ ہماری عزت نہیں کرتے۔ہم اتنے بڑے تھے، اتنے بڑے خاندان میں سے تھے، معلوم نہیں کیا ہو گیا۔وہ حیران ہوتے ہیں اور پھر خود ہی کہتے ہیں کہ ’’کچھ اللہ ولوںوگ گئی اے‘‘ یعنی خدا کی طرف سے اس کی لعنت کی مار ہم پر آپڑی ہے ورنہ ہماری عزت میں کیا شبہ تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارا باپ مالدار تھا تو تمہیں اس سے بھی اونچی سیڑھی پر چڑھنا چاہیے تھا اگر اس نے ایک ہزار روپیہ کمایا تھا تو چاہیے تھا کہ تم دس ہزار روپیہ کماتے اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے خرچ کرتے نہ یہ کہ اس روپیہ کو تعیش میں برباد کر دیتے اور بھیک مانگنے لگ جاتے۔تم نے خود اپنے نفس کی اہانت کی اور اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہ میں گرا دیا اس لئے تم خدا تعالیٰ کی نظر سے بھی گر گئے اور اس کے بندوں کی نظر سے بھی گر گئے۔یا اگر تم پر تکلیف کی بعض گھڑیاں آئی تھیں تو اس لئے کہ تم ہوشیار ہو جاؤاور اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کر لو۔مگر تم اور بھی نیچے پھسلتے چلے گئے۔چونکہ لَمًّا کے معنے دوسرے کا حصہ لے لینے کے بھی ہیں اس لئے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کو جو دولت ملتی ہے وہ صرف اسی کا حصہ نہیں ہوتا اس میں دوسرے بنی نوع انسان کا بھی حصہ ہوتا ہے لیکن بعض لوگ اس دولت کو صرف اپنے نفس پر خرچ کر دیتے ہیں اور دوسروں کا حق کھا جاتے ہیں۔