تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 265

اخلاق تو پہلے ہی ظاہر تھے آپؐنے سَرَّآء میں بھی خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کیا اور ضَرَّاء میں بھی اس کی رضامند ی کی راہوں کو اختیار کیا۔آپ کے پاس دولت آئی تو وہ آپ نے سب کی سب بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے لٹا دی اور خود اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اس کے مقابلہ میں آپ پر مصائب بھی آئے۔کئی قسم کے دکھ بھی آپ کو برداشت کرنے پڑے مگر ہمیشہ آپ نے صبر سے کام لیا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کے پاس سے گذر رہے تھے کہ آپ نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ ایک قبر پر کھڑی رو رہی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بی بی صبر کر۔اس نے کہا اگر تیرے بچے مرتے تو میں دیکھتی کہ تو کس طرح صبر کرتا۔صبر کی نصیحت تو اسی لئے کر رہا ہے کہ یہ میرا بچہ تھا تیرا بچہ نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا۔اے عورت میرے سات مرچکے ہیں مگر میں نے ہر بچے کی وفات پر صبر سے کام لیا ہے۔یہ کہہ کر آپ چل پڑے بعد میں کسی نے اسے بتایا کہ بدبخت تجھے پتہ بھی ہے تجھے یہ بات کہنے والا کون تھا؟ اس نے کہا مجھے تو پتہ نہیں۔اس نے کہا یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے یہ سنتے ہی وہ آپ کے مکان پر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میں نے صبر کیا۔آپ نے فرمایا اَلصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْاُوْلٰی(صحیح بخاری کتاب الـجنائز باب زیارۃ القبور)۔صبر تو ابتدائی حالت میں ہوتا ہے بعد میں تو رو دھو کر صبر آ ہی جاتا ہے۔غرض وہ حالتیں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آئیں جن میں انسان جزع فزع کرنے لگ جاتا ہے مگر آپ نے ان حالات میں بھی صبر کیا اور یہی کہا کہ ہم اس کی مشیت پر راضی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم جب فوت ہونے لگا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس وقت پاس موجود تھے اس کی تکلیف اور کرب کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔کسی نے کہا یا رسول اللہ آپ بھی روتے ہیں آپ نے فرمایا آنکھ کا آنسو بہانا اور ہے ورنہ ہمیں خدا تعالیٰ کے فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔تو ابتلا اور ہوتے ہیں اور جزا اور ہوتی ہے اور بعض جزائیں تو ایسی ہوتی ہیں جو اعلیٰ درجہ کے روحانی مقامات حاصل کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر ملتی ہیں جیسے حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی فرماتے ہیں کہ میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر تجھے میری ذات ہی کی قسم کہ یہ کھانا کھا اور میں کپڑا نہیں پہنتا جب تک مجھے خدا نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر تجھے میری ذات ہی کی قسم کہ یہ کپڑا پہن(قلائد الجواھر صفحہ ۲۸ علامہ شیخ محمد بن یحییٰ الحنبلی)۔یہ ابتلا والا مقام نہیں بلکہ ایک روحانی عہدہ حاصل کرنے کا انعام ہے۔ان لوگوں کو سَرَّآء اور ضَرَّآء میں سے گذار کر اللہ تعالیٰ ان کے اخلاق اور ان کے