تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 261

ہر چیز انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کی ہے آگے کبھی اپنے فعل کی وجہ سے اور کبھی دشمن کے فعل کی وجہ سے وہ انسان کے لئے بری بن جاتی ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے سنکھیا اس لئے پیدا کیا ہے کہ اگر انسان کو بخار چڑھے تو وہ اس سے فائدہ اٹھائے یا کسی کو خون کے دست آ رہے ہوں تو ہومیو پیتھک ڈوز میں اسے آرسنک دیا جائے تا کہ اس کی پیچش دور ہو جائے اور خون آنا بند ہو جائے یا سنکھیا خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ اگر کوئی کمزور شخص ہو۔اس کے جسم میں خون کی کمی ہو۔تو وہ سنکھیا استعمال کر کے اپنی کمیٔ خون اور جسم کی کمزوری کو دور کر لے یا اگر اعصاب میں کمزوری پیدا ہو چکی ہو تو سنکھیا استعمال کر کے اعصاب کو مضبوط بنا لیا جائے اسی طرح اور بیسیوں فوائد ہیں جن کے لئے سنکھیا استعمال کیا جاتا ہے مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان خودکشی کرنے کے لئے سنکھیا کھا لیتا ہے۔کبھی جہالت سے بغیر ضرورت اور بغیر ڈاکٹری مشورہ کے ایسی چیزیں استعمال کر لیتا ہے جن میں سنکھیا پڑا ہوا ہوتا ہے، کبھی دشمن اسے زہر دے دیتا ہے اور اس طرح وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔اب سنکھیا تو خدا تعالیٰ نے خیر کے لئے ہی پیدا کیا تھا مگر اس کے اپنے غلط استعمال کی وجہ سے یا معالج کی بے احتیاطی کی وجہ سے یا دشمن کی شرارت کی وجہ سے وہ خیر اس کے لئے شر بن جاتی ہے یا مثلاً خدا نے لوہا اس لئے بنایا ہے کہ لوگ گنڈاسے بنائیں اور اس سے چارہ کتریں، چاقو تیار کریں اور اس سے قلمیں اور پنسلیں تراشیں، چھرے بنائیں اور ان سے بکرے ذبح کریں، کسیاں بنائیں اور ان سے زمین کھودیں، کدالیں بنائیں اور ان سے سخت پتھریلی زمینیں توڑیں، اسی طرح آرے تیار کریں اور لکڑیوں کو چیریں مگر ایک اور شخص لوہا لے کر اپنے سر پر مارتا ہے اور مر جاتا ہے اب یہ فعل اس کا اپنا ہے اللہ تعالیٰ کا نہیں۔اس نے تو بہرحال انسان کے فائدہ کے لئے لوہے کو پیدا کیا تھا اس لئے نہیں پیدا کیا تھا کہ وہ نقصان اٹھائے یا اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔پس چونکہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے پید اکی ہے اگر وہ نقصان اٹھاتا ہے تو اپنی غلطی کی وجہ سے۔اس لئے ہر نیکی خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتی ہے اور ہر بدی بندے کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جہاں تک نتائج کا سوال ہے یہ امر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ نتیجۂ شر بھی خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے اور نتیجۂ خیر بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے مگر الزام خدا تعالیٰ پر نہیں آتا اس لئے کہ وہ فعل خدا تعالیٰ نے نہیں کیا بلکہ انسان نے کیا ہے۔مثلاً فرض کرو ایک شخص نے مینار سے چھلانگ لگائی اور وہ مر گیا۔اب بے شک خدا تعالیٰ نے اس کا گوشت پوست ایسا بنایا تھا کہ اگر وہ اونچی جگہ سے گرے تو مر جائے۔اس کے پھیپھڑے اس نے ایسے بنائے تھے کہ اگر ان پر چوٹ آئے تو وہ زخمی ہو جائیں مگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ نے اسے گرایا نہیں بلکہ وہ خود گرا ہے۔پس جہاں تک نتائج کا سوال ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوں گے یہ کہا جائے گا کہ