تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 260
مالِ غنیمت لیا، اتنے لوگوں کو قید کیا، صرف ایک دو دفعہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کونسبتاً زیادہ نقصان پہنچ گیا تو یہ معمولی بات ہے ورنہ چالیس پچاس غزوات میں ہر جگہ ایسا ہی ہوا کہ اگر آپ کا ایک آدمی مارا گیا تو دشمن کے دس آدمی مارے گئے۔پس اگر وہ اچھے اور برے دونوں نتائج کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تو یہ بات آپ کے درجہ اور شان کو بلند کرنے والی ہوتی اور ہر جگہ آپ کی تعریف ہوتی اور اگر وہ نتائج کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ نیکی بھی خدا کی طرف سے ہے اور بدی بھی خدا کی طرف سے ہے تب بھی ان کا کام نہ بنتا اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکتے۔پس چونکہ ان کی غرض لوگوں کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالنا تھی اس لئے وہ نہ روحانی نقطۂ نگاہ لیتے تھے نہ مادی نقطۂ نگاہ۔بلکہ اگر بھلائی آتی تو کہتے یہ اتفاق کی بات ہے اور اگر نقصان پہنچتا تو کہتے یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہوا ہے۔فلاں موقع پر بھی نقصان ہوا تھا مگر محمد رسول اللہ ؐ پھر بھی نہ سمجھے اور قوم کو دوبارہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔پس ان کا یہ اعتراض کسی فلسفہ پر مبنی نہیں تھا بلکہ محض شرارت اور فتنہ و فساد پر اس کی بنیاد تھی اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے ورنہ یہ صحیح ہے کہ خرابی بندے کی غلطی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور انعام خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے مگر بندے سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ عام مسلمان ہیں جہاں جہاں مسلمانوں کو نقصان پہنچا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی غلطی کی وجہ سے نہیں پہنچا بلکہ بعض جگہ مسلمانوں کے غلط اجہتاد کی وجہ سے جیسے اُحد کی جنگ میں اور بعض جگہ کافروں اور کمزور مسلمانوں کی بزدلی کی وجہ سے جیسے غزوۂ حنین میں۔لیکن منافق نہ روحانی نقطۂ نگاہ سے یہ بات کہتے تھے نہ مادی نقطۂ نگاہ سے۔صرف شرارت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کے لئے ایسا کہتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کر دی۔اگر کہو کہ ادب کے مقام پر خیر خدا تعالیٰ کی طرف اور شر بندے کی طرف منسوب ہوتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان کے دلوں میں ادب ہوتا تو اس صورت میں ان کو شر اپنی طرف یا اتفاق کی طرف منسوب کرنا چاہیے تھا اور انہیں یوں کہنا چاہیے تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی جس کا یہ خمیازہ بھگتنا پڑا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ بدی کو منسوب نہ کرتے۔ادب یہی ہوتا ہے کہ انسان غلطی اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور خوبی اپنے افسر کی طرف۔مگر وہ خوبی خدا تعالیٰ کی طرف اور بدی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب کے طور پر وہ ایسا نہیں کہہ رہے تھے بلکہ محض شرارت اور فساد کی نیت سے ایسا کہتے تھے۔اب رہا خیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور شر کو اپنی طرف منسوب کرنا۔اس دعوے کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے