تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 22

آتے ہیں۔مگر یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن قولِ فصل ہے۔جب یہ قول فصل ہے تو پھر بڑھنے اور گھٹنے کے کیا معنے ہوئے۔اس کلام کے نزول کے بعد انسان کو ہمیشہ بڑھنا ہی چاہیے گھٹنا نہیں چاہیے۔مگر ادھر تو تم بتا رہے ہو کہ جس طرح انسان ظاہر میں مَآءٍ دَافِقٍ سے پیدا ہوا ہے اسی طرح باطن میں بھی مَآءٍ دَافِقٍ سے پیدا ہواہے۔ایک رو ہے جو اس کے اندر پائی جاتی ہے کبھی وہ رو ترقی کی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی تنزّل کی طرف۔اچھلنے والی چیز کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ وہ کبھی گرتی ہے کبھی اچھلتی ہے کبھی اوپر کی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی نیچے کی طرف چلی جاتی ہے۔پس مَآءٍ دَافِقٍ میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ بنی نوع انسان کی پیدائش ایسے رنگ میں ہوئی ہے کہ کبھی قوم آگے کی طرف بڑھ جاتی ہے کبھی پیچھے کی طرف اپنا قدم ہٹا لیتی ہے۔کبھی ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا لیتی ہے کبھی تنزّل میں گر جاتی ہے۔گویا انسانی پیدائش دفق کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اور مختلف ویوزWAVESاور لہریں ہیں جو اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔لیکن دوسری طرف بتایا جاتا ہے کہ یہ قولِ فصل ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ قولِ فصل کے بعد یہ لہر نیچے کی طرف نہیں جا سکتی۔جب قول فصل کے بعد یہ رو نیچے کی طرف نہیں جا سکتی تو پھر خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ کا کیا مفہوم ہوا۔اگر اس کے بعد انسانی زندگی میں دفق نہیں پایا جائے گا تو قرآن کریم کی یہ آیت غلط ٹھہرتی ہے۔اور اگر اس میں دفق پایا جائے گا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ دفق کس رنگ میں ہو گا۔جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ اور اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ کی آیات سے جو سوالات پیدا ہوتے تھے ان کا اس سورۃ میں جواب دیا گیا ہے۔پھر اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ کے متعلق یہ سوال بھی پیدا ہوتا تھا کہ ابتدائے عالم سے اب تک دنیا میں کئی انبیاء گذر چکے ہیں ان میں سے کسی نبی پر پہلے یہ قولِ فصل کیوں نازل نہیں ہوا اور کیوں اب قولِ فصل نازل ہوا ہے۔گویا جہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قولِ فصل کے بعد کسی موعود کی کیا ضرورت ہے وہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ قولِ فصل کا نزول اگر بنی نوع انسان برداشت کر سکتے ہیں تو یہ قولِ فصل پہلے کیوں نہ نازل کر دیا گیا اور اب کیوں نازل کیا گیا ہے۔غرض دو سوال قولِ فصل سے اور ایک سوال خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ سے پیدا ہوتا تھا اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ ان سوالات کا جواب دیتا ہے اور لوگوں کو بتاتا ہے کہ قانونِ قدرت سے یہ دونوں امور ظاہر ہیں کہ بعض اشیاء عارضی فوائد کے لئے پیدا کی جاتی ہیں اور بعض اشیاء لمبے فوائد کے لئے پیدا کی جاتی ہیں۔جو اشیاء عارضی اغراض کے لئے پیدا کی جاتی ہیںان کی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے لیکن جو اشیاء انتہائی کمال کے اظہار کے لئے پیدا کی جاتی ہیں ان کی زندگی بہت لمبی ہوتی ہے یا ان کا جسمانی ارتقاء بند ہو جاتا ہے۔خَلق کے لحاظ سے اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے ایک تعلق ہے اور وہ یوں کہ پہلی سورۃ میں انسانی پیدائش کا ذکر