تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 253
پر کوئی اور آدمی ہو گا اور یا وہ کبھی اونچی ایڑی کا بُوٹ پہن لیتا ہو گا اور کبھی اسے اتار دیتا ہو گا۔بہرحال حالتِ مستقلہ ہی انسان کی اصل حالت ہوتی ہے۔اگر حالت مستقلہ نہ ہو تو وہ بناوٹی اور مصنوعی طور پر اختیار کی ہوئی ہوتی ہے چنانچہ بندے کے شکر کے مصنوعی ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ۔اور جب وہ دوسرے رنگ میں اسے ابتلا میں ڈالتا اور اس کے اندرونہ کو ظاہر کرتا اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے (قَدَرَ عَلٰی عِیَالِہٖ کے معنے ہوتے ہیں ضَیَّقَ اس نے عیال کا گذارا تنگ کر دیا) اور اسے کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو اس وقت بجائے اس کے کہ تقویٰ سے کام لے کر وہ نیکی کو خدا کی طرف منسوب کرتا اور نقصان کو اپنی طرف۔جب اس پر کوئی بلا اور مـصیبت پڑتی ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری اہانت کی اور اس نے مجھے ذلیل کر دیا۔یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ انعام کے وقت اس نے جو کچھ کہا تھا وہ بھی صرف اس کے منہ کی ہی ایک بات تھی۔حقیقت اس میں نہیں تھی۔اسی لئے قرآن کریم نے وہاں صرف یَقُوْلُ کا لفظ ہی استعمال کیا ہے۔یاد رکھو کفر کی بات منہ سے نکلی ہوئی ایک جرم ہے لیکن نیکی کی بات جب دل سے کہی گئی ہو قطعاً کوئی جرم نہیں مگر اس لئے کہ یہ شخص نیکی کی بات منافقت سے کہتا ہے اس کی پہلی بات بھی جرم بن جاتی ہے اور کفر کی بات چونکہ دل سے نکلی ہوئی ہوتی ہے اس لئے وہ تو جرم ہوتی ہی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا اور اس پر اپنے ابر کرم کی بارش برساتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میرا اکرام کیا اور اگر وہ اپنی مشیت کے ماتحت اس پر تنگی کے اوقات لے آئے اور اس کے وسائل معاش کھلے نہ رہیں تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری تذلیل کی۔گویانیکی اور بدی دونوں کو وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ اچھا سلوک بھی میرے اللہ نے کیا اور میرے ساتھ برا سلوک بھی میرے اللہ نے کیا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا کہنا سخت غلطی ہے تم یہ مت کہو کہ عزت بھی خدا کی طرف سے ملتی ہے اور ذلت بھی خدا کی طرف سے ملتی ہے۔نیک نتائج بھی وہی پیدا کرتا ہے اوربرے نتائج بھی وہی پیدا کرتا ہے۔خیر و شر حاصل ہونے کے متعلق قرآن مجید کا بیان لیکن دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا (النساء:۷۹) یعنی جب ان کو کوئی خوشی کی