تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 252

خوبی اور اس کے حسن کو یا اس چیز کی ردأت کو ظاہر کر دیا جائے وَرُبَّـمَا قُصِدَ بِہِ الْاَمْرَانِ۔اور کبھی کبھی یہ دونوں باتیں مدنظر ہوتی ہیں۔یعنی ابتلا کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ مخفی حالت جاننا اور یہ بھی معنے ہوتے ہیں کہ مخفی حالات کو ظاہر کرنے کا موقع دینا وَرُبَّـمَا یُقْصَدُ بِہٖ اَحَدُھُمَا۔اور کبھی صرف ایک ہی مراد ہوتی ہے یعنی کبھی صرف جاننا مراد ہوتا ہے اور کبھی صرف اس کا ظہور مراد ہوتا ہے فَاِذَا قِیْلَ فِی اللّٰہِ تَعَالٰی بَلٰی کَذَا اَوْاَبْلَاہُ فَلَیْسَ الْمُرَادُ مِنْہُ اِلَّا ظُہُوْرَ جَوْدَتِہٖ وَرَدَاءَتِہٖ۔یعنی جب خدا تعالیٰ کے متعلق یہ لفظ بولا جائے اور کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ابتلا میں ڈالا تو اس کے معنے جاننے کے نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندرونہ کو ظاہر ہونے کا موقعہ دیا۔اگر گند تھا تو اس گند کے ظاہر ہونے کا موقعہ پیدا کر دیا اور اگر اچھائی تھی تو اس کی خوبی کے ظاہر ہونے کا موقعہ پیدا کر دیا دُوْنَ التَّعَـرُّفِ لِـحَالِہٖ وَالْوُقُوْفِ عَلٰی مَا یُـجْھَلُ مِنْ اَمْرِہٖ۔اس کے حال کو جاننے کے معنے نہیں ہوتے اور اس کے پوشیدہ امر پر واقف ہونے کے معنے بھی نہیں ہوتے اِذْکَانَ اللہُ عَلَّامَ الْغُیُوْبِ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ غیبوں کو جاننے والا ہے۔اور اسے مزید جاننے کی ضرورت نہیں۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آیت اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ کا یہ مفہوم ہو گا کہ انسان کی یہ حالت ہے کہ جب اس کا رب اس کے اخلاق کی یا اس کے خیالات کی یا اس کے افکار کی یا اس کی طاقتوں کی اچھائی یا برائی کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اس ذریعہ سے کہ اس کا اکرام کرتا ہے اور اسے نعمتیں دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میرا اکرام کیا۔خدا تعالیٰ کا طریق یہ ہے کہ جب وہ بندے کے اندرونی ایمان اور اس کے عقیدہ اور اس کے اخلاص کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تا اس شخص کو خود بھی پتہ لگ جائے اور دوسرے لوگوں کو بھی۔ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو پتہ ہی ہوتا ہے تو وہ ایک تواس کا امتحان اس ذریعہ سے لیتا ہے کہ اس کا اکرام کرتا ہے اور اسے نعمتوں پر نعمتیں دیتا چلا جاتا ہے۔اسے کہیں سے روپیہ مل جاتا ہے، کسی تجارت میں نفع حاصل ہو جاتا ہے، کہیں دو دو بچے ایک ایک جانور دے دیتا ہے، کہیں اس کے زمین کی پیدا وار میں ترقی ہو جاتی ہے، کہیں اسے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی خطاب یا عہدہ مل جاتا ہے۔اس وقت وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دی لیکن وہ یہ جو کچھ کہتا ہے اس میں حقیقت نہیں ہوتی۔منہ سے تو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے لیکن حقیقت موجود نہیں ہوتی۔اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی تو ہر جگہ ظاہر ہوتی۔جیسے لمبے قد کا آدمی ایران میں پھرے گا تب بھی وہ لمبا ہو گا، چین میں پھرے گا تب بھی وہ لمبا ہوگا۔لیکن اگر وہ کسی جگہ لمبا نظر آتا ہے اور کسی جگہ چھوٹا۔تو دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہو گی۔یا تو دوسرے موقعہ