تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 248

ہوتا ہے تاکہ رائے پختہ ہو جائے۔اس بار بار کے فعل سے چونکہ چیز پرانی ہوتی ہے اس لئے بَلِیَ کا لفظ اسی حقیقت کے اشتمال کی وجہ سے بولا جاتا ہے (پنجابی میں بھی محاورہ ہے کہ یہ چیز تو میری ہنڈائی ہوئی ہے یعنی کثرت سے اس کے ساتھ میرا معاملہ پڑا ہے اور میں اس کی حقیقت سے واقف ہوں) اسی طرح تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَااَسْلَفَتْ کے معنے ہیں تَعْرِفُ حَقِیْقَۃَ مَا عَـمِلَتْ یعنی ہر شخص اپنے عمل کی حقیقت کو جان لے گا۔وَسُـمِّیَ الْغَمُّ بَلَاءً مِنْ حَیْثُ اَنَّہٗ یُبْلِی الْـجِسْمَ۔غم کو بھی اسی لئے بَلَاء کہتے ہیں کہ وہ جسم کو دُبلا کر دیتا ہے اور اس کی طاقت کو کمزور کر دیتا ہے اسی طرح صاحب مفردات لکھتے ہیں کہ سُـمِّیَ التَّکْلِیفُ بَلَاءً مِّنْ اَوْجُہٍ تکلیف کو بھی عربی زبان میں بَلَاء کہتے ہیں اور اس کی کئی وجوہ ہیں اَحَدُھَا اَنَّ التَّکَالِیْفَ کُلَّھَا مَشَاقٌّ عَلَی الْاَبْدَانِ۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جب تکلیفیں آتی ہیں انسان پر ایک بوجھل کام آ پڑتا ہے اور ان تکالیف کا اس کے جسم پر اثر پڑتا ہے اس لئے اس کو بلا کہتے ہیں وَالثَّانِیْ اَنَّـھَا اِخْتِبَارَاتٌ(مفردات) دوسرے اس لئے کہ جب انسا ن پر بوجھ پڑتا ہے تبھی اس کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔وہ شخص جسے کسی بڑی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا اس کی بہادری کا کس طرح پتہ چل سکتا ہے یا جسے متواتر بوجھ اٹھانے کا موقع نہیں ملا اس کا استقلال کس طرح نظر آ سکتا ہے۔یوں تو ہر شخص اپنے متعلق سمجھ لیتا ہے کہ میں بڑا واقف اور ماہر ہوں۔لیکن اس کی واقفیت یا مہارت تب معلوم ہوتی ہے جب اس پر کوئی بڑا بوجھ آ کر پڑتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِيْنَ( محمد:۳۲) یعنی ہم تمہیں تکلیفوں میں ڈالیں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدوں اور صابروں کو ممتاز کر کے دکھا دیں۔وَالثَّالِثُ اَنَّ اخْتِبَارَ اللہِ تَعَالٰی لِلْعِبَادِ تَارَۃً بِالمَسَارِّ لِیَشْکُرُوْا وَتَارَۃً بِالْمَضَارِّ لِیَصْبِرُوْا۔تیسری وجہ مفردات کے مصنف یہ بتاتے ہیںکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بندے کی حقیقت کو اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے کہ کبھی اس کو خوشیاں پہنچائی جاتی ہیں تا کہ یہ دیکھا جائے کہ اس میں شکر کا مادہ ہے یا نہیں اور کبھی اس کو تکالیف میں ڈالا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ اس میں صبر کا مادہ ہے یا نہیں فَصَارَتِ الْمِحْنَۃُ وَالْمِنْحَۃُ جَـمِیْعًا بَلَاءً فَالْمِحْنَۃُ مُقْتَضِیَۃٌ لِلصَّبْرِ وَالْمِنْحَۃُ مُقْتَضِیَۃٌ لِلشُّکْرِ۔پس ابتلا اور تکالیف صبر ظاہر کرنے کا موجب بن جاتی ہیں اور انعامات اس کے جذبۂ شکر کو ظاہر کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی انعام نازل ہوتا ہے اس وقت انعام کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان شکر کرے اور جب اسے کوئی ٹھوکر لگے تو اس وقت مصیبت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان صبر کرے وَالْقِیَامُ بِـحُقُوْقِ الصَّبْرِ اَیْسَـرُ مِنْ الْقِیَامِ بِـحُقُوْقِ الشُّکْرِ (مفردات) پھر وہ کہتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے امتحان بذریعہ صبر لیا جاتا ہے