تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 245
پس چونکہ یہاں مسیح موعود کا بھی ذکر تھا اس لئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دشمنوں کے لئے عاد اور ثمود کی مثال دی وہاں مسیح موعود کے دشمنوں کے لئے فرعون کا واقعہ بطور مثال پیش کیا گیا۔فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ۰۰۱۴ اس پر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔حلّ لُغات۔صَبَّ۔صَبَّ: صَبَّ الْمَاءَ کے معنے ہوتے ہیں۔اس نے پانی کو بہا دیا۔صَبَّ لازم بھی ہے اور متعدی بھی یعنی صَبَّ کے معنے بہانے کے بھی ہیں اور بہنے کے بھی ہیں۔(اقرب) سَوْطٌ سَوْطٌ: کوڑے کوبھی کہتے ہیں اور سَوْطٌ کے معنے حصہ کے بھی ہوتے ہیں اور سَوْطٌ کے معنے سختی کے بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح سَوْطٌ جوہڑ کو بھی کہتے ہیں یعنی اس نشیب دار زمین کو بھی سَوْطٌ کہا جا تا ہے جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے (اقرب) تفسیر۔فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ کے تین معنے اگر سَوْطٌ کے معنے کوڑے کے لئے جائیں تو فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے اوپر عذاب کے کوڑے برسا دیئے۔ہمارے ملک میں بھی کوڑوں کے متعلق برسانے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہی محاورہ یہاں استعمال کیا گیا ہے کہ ان پر تیرے رب نے عذاب کے کوڑے برسانے شروع کر دیئے جس طرح قطرہ کے بعد قطرہ گرتا ہے اسی طرح ان پر عذاب کے بعد عذاب نازل ہو گا۔اور انہیں ہوش ہی نہیں آئے گا۔یہاں تک کہ وہ تباہ ہو جائیں گے۔اگر سَوْط کے معنے حصہ کے کئے جائیں تو اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اس قوم کا عذاب الٰہی میں جو حصہ مقدر تھا اس کے متعلق اسے کہا جائے گا کہ لو اپنا سارا حصہ عذاب کا لے لو۔تم نے ہمارے نبیوں کو دکھ دیا تھا انہوں نے اپنا حصہ دکھوں میں سے لے لیا اور تم اپنا حصہ لو۔اگر سَوْط کے معنے جوہڑ کے کئے جائیں تو آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ عذاب کا جوہڑ سارے کا سارا ان پر الٹا دیا جائے گا۔چونکہ سَوْط اس نشیب دار زمین کو کہتے ہیں جس میں پانی جمع ہو جاتا ہے اس لئے سَوْط کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے احکام نازل ہو کر ان کا ذخیرہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ان کی ہر شرارت