تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 234

بےمثال ہو لیکن ہر قوم کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس جیسی پہلے کوئی قوم نہیں گذری۔اس اعتراض کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت وقوت میں مقابلہ کبھی ایک ملک سے ہوتا ہے اور کبھی ایک قوم سے۔اور کبھی ساری دنیا سے۔اگر بالکل ابتدائی زمانہ ہو اور اس وقت کسی قوم کے متعلق یہ کہا جائے کہ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ تو اس سے مراد صرف یہ ہو گی کہ اس سے پہلے اور کوئی قوم اتنی بڑی طاقت حاصل نہیں کر سکی اور اگر مختلف قومیں دنیا میں پھیل چکی ہوں اور مختلف ممالک میں مختلف قومیں حکومتیں کر رہی ہوں تو اس وقت اس قسم کے الفاظ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں اس سے بڑی طاقت اور کوئی نہیں تھی گویا یہ الفاظ محض نسبتی ہوتے ہیں کلّی فضیلت مراد نہیں ہوتی۔انسان کا اپنا فرض ہوتا ہے کہ وہ عقل سے کام لے اور صحیح معنوں کی تعیین کرے۔ہاں ایمانیات کا معاملہ اس سے مختلف ہے وہاں ایسے قرائن بھی رکھ دیئے جاتے ہیںجن سے اس نتیجہ پر پہنچنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ کسی جزوی فضیلت کا ذکر کیا جا رہا ہے یا کلّی فضیلت کا۔مثلاً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سارے زمانوں کے لئے ہیں اور آپ قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کے مطاع اور پیشوا ہیں یہ بات چونکہ ایمانیات سے تعلق رکھتی تھی اور ہر وہ شخص جو آپ کی اس فضیلت پر ایمان نہ لاتا روحانی لحاظ سے سخت مجرم اور گناہ گار سمجھا جاتا۔اس لئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر بعثت کا ذکر کیا گیا وہاں ایسے قرائن بھی رکھ دیئے گئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سارے زمانوں اور سارے ملکوں کے لئے ہیں آپ کی نبوت سابق انبیاء کی طرح مختص الزمان نہیں ہے لیکن جہاں کسی قوم کی صرف ظاہری طاقت اور شوکت کا اظہار ہو وہاں ہر معقول انسان کا فرض ہے کہ وہ خود اندازہ لگائے اور سوچے کہ یہ نسبتی الفاظ ہیں یا کلّی۔جیسے قرآن کریم ہمیشہ ذومعانی الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن عقل مند انسان دیکھ لیتا ہے کہ اس عبارت میں کون سے معنے چسپاں ہوتے ہیں اور کون سے نہیں۔بسا اوقات چار میں سے دو معنے چسپاںہو تے ہیں اور دو نہیں ہوتے۔اس وقت انسان خود ہی فیصلہ کر لیتا ہے کہ یہ یہ معنے یہاں چسپاں ہوسکتے ہیں۔قرآن کریم صرف اسی جگہ قرائن مرجّح رکھتا ہے جہاں معنوں میں ادنیٰ غلطی ایمان میں خرابی پیدا کر دیتی ہو۔جیسے فرمایا تھا وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ۔اب طارق کے لفظ سے ایک شبہ پیدا ہو سکتا تھا جس کا مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ کہہ کر ازالہ کیا۔کیونکہ طارق کے دو معنے ہیں ایک معنے ہیں رات میں آنے والا اور دوسرے معنے ہیں صبح کا ستارہ۔چونکہ گذشتہ سورتوں سے ایک نبی کے آنے کی پیشگوئی بیان ہو رہی تھی اس لئے ضروری تھا کہ اس کی حیثیت پر روشنی ڈالی جاتی اور بتایا جاتا کہ اس کی حیثیت رات میں آنے والے کی سی ہے یا صبح کے ستارے کی سی۔سو اس کے بعد وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُ۔النَّجْمُ الثَّاقِبُ کہہ کر بتا دیا کہ یہاں کوئی اور معنے مراد نہیں بلکہ صرف