تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 233

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ۰۰۸ یعنی (عاد) ارم سے جو بڑی بڑی عمارتوں والے تھے۔حلّ لُغات۔اَلْعِمَادُ۔اَلْعِمَادُ کے معنے ہیں اَلْاَ بْنِیَۃُ الرَّفِیْعَۃُ اونچی عمارتیں۔اس کا مفرد عِـمَادَۃٌ آتا ہے (اقرب) پس ذَاتِ الْعِمَادِ کے معنے ہوئے۔بلند اور اونچی عمارتوں والا قبیلہ۔تفسیر۔ارم عطفِ بیان ہے عاد کے بعد۔ارم کے متعلق تین مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ارم قبیلے کا نام ہے اور یہاں ارم قبیلہ سے تعلق رکھنے والے عاد کا ہی ذکر کیا گیا ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ قبیلے کا نام نہیں بلکہ ایک شہر کا نام ہے۔وہ لوگ بِعَادٍ اِرَمَ کی بجائے بِعَادِ اِرَمَ پڑھتے ہیں یعنی وہ عاد جو ارم جگہ کے رہنے والے تھے۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ ہے تو شہر کا نام مگر مراد ہے اِرَمَ صَاحِبِ ذَاتِ الْعِمَادِ یعنی ارم جو بڑی عمارتوں والے تھے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قبیلہ کے لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنایا کرتے تھے چنانچہ سورۂ شعراء میں حضرت ہودؑ ان کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ۔وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ (الشعراء:۱۲۹،۱۳۰) یعنی تم لوگ ہر پہاڑی پر شاندار عمارتیں بناتے ہو اور بڑے بڑے کارخانے تیار کرتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ تم حوادثِ روزگار سے ہمیشہ محفوظ رہو گے اور کبھی دنیا سے مٹ نہیں سکو گے۔یہ اس قبیلہ کی ایک امتیازی خصوصیت تھی جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ۪ۙ۰۰۹ وہ جن کی مثل (قوم) ان ملکوں میں پیدا ہی نہ کی گئی تھی۔تفسیر۔لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ کا مطلب لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ سے مراد یہ ہے کہ اس قوم سے پہلے اور کوئی قوم اس جیسی طاقتور نہیں گذری۔قرآن کریم میں مختلف مقامات پر مختلف رنگ میں اس قسم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کو دیکھ کر بعض لوگ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ ساری قوموں یا سارے لوگوں کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔ایک قوم تو ایسی ہو سکتی ہے جو