تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 232
تمہارا کوئی معبود نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم شرک میں مبتلا تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بھی چونکہ شرک میں مبتلا تھی اس لئے معلوم ہوتا ہے وہی روایات ان میں بھی آ گئیں۔پھر یہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے چنانچہ اسی سورۂ فجر میں ان کو ذات العماد کہا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ و ہ لوگ بڑی بڑی اونچی عمارتیں بنانے والے تھے۔پھر قرآن کریم میںیہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی تباہی ایک آندھی سے ہوئی تھی جو سات راتیں اور آٹھ دن متواتر ان پر چلتی رہی۔اور پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہ و برباد کر دیئے گئے کہ قومی طور پر ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا چنانچہ فرماتا ہے فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ (الاحقاف:۲۶) ان کی قوم کا نشان بالکل مٹ گیا ہے صرف ان کی بڑی بڑی عمارتوں کے آثار باقی رہ گئے ہیں۔دیکھو یہ بھی کیسی زبردست پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی۔یوروپین مؤرخ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں عاد کا کہیں نام نہیں ملتا اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ قرآن کریم نے تو خود کہہ دیا تھا کہ فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ (الاحقاف:۲۶) صرف عمارتیں نظر آئیں گی۔ان کا نام نظر نہیں آئے گا کیونکہ ہم نے ان کا نام بالکل مٹا دیا ہے پس اگر انہوں نے یہ نئی تحقیق کی ہے کہ عاد کا نام آثار قدیمہ میں نہیں ملتا تو ہم کہتے ہیں اس سے بھی قرآن کریم کی صداقت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم نے خود کہا تھا کہ آثار قدیمہ کی تلاش و جستجو کے بعد ان کی عمارتیں تو ٹوٹی پھوٹی تمہیں مل جائیں گی مگر ان کا نام نہیں ملے گا۔پس یہ جملہ قرآن کریم کی صداقت کو باطل ثابت کرنے والا نہیں بلکہ اس کی اور بھی تائید کرنے والا ہے۔عاد قوم کے نبی حضرت ہودؑ تھے ان کا ذکر قرآن کریم (میں) ستر۱۷ہ جگہ پر آیا ہے۔(۱)ہود۔اس میں چار جگہ نام آتا ہے۔(۲)شعراء (۳) قمر (۴) فُصِّلَتْ (۵) اعراف (۶)فجر (۷)ذاریات (۸)ص (۹)ق (۱۰) توبہ (۱۱)ابراہیم (۱۲)حج (۱۳)مومن (۱۴) نجم (۱۵)فرقان (۱۶)عنکبوت (۱۷) احقاف۔سورۂ فُصّلت میں دو دفعہ اور ہود میں چار دفعہ ذکر آتا ہے اس طرح سارے قرآن کریم میں ان کا ۲۱ دفعہ ذکر ہو گیا۔میں ان قرآنی حالات کے متعلق ایک عیسائی مؤرخ کا قول پہلے بیان کر چکا ہوں کہ ان حالات سے زیادہ مکمل اور صحیح حالات ہمیں دنیا کی اور کسی تاریخ سے نہیں مل سکتے۔