تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 231
نیچے کی طرف عراق کے بیابان کے ساتھ ساتھ چلا جاتا ہے۔غرض احقاف نے عرب کو گھیرا ہوا ہے ایک نیچے کے احقاف ہیں اور ایک اوپر کے درمیان میں نجد اور حجاز کے علاقے ہیں۔احقاف ان ریت کے ٹیلوں کو کہتے ہیں جو اونچے نیچے خم کھاتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ یہ لوگ وہاں رہتے تھے جہاں اب احقاف ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے وَاذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ (الاحقاف:۲۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا زور شمالی اور جنوبی عرب میں تھا یا وہ علاقے جو شمالی اور جنوبی احقاف کہلاتے ہیں ان میں ان لوگوں کا زور تھا۔تاریخوں میں جو مختلف روایات آتی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ جنوب سے پھیل کر شمال میں چلے گئے تھے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ثمود قوم جو عاد کا ایک قبیلہ تھی اس کے آخری دَور میں اس کی حکومت شمالی عرب اور جنوبی فلسطین میں تھی اور یہیں اس کے آثار ملتے ہیں۔چنانچہ حجر بھی ان کا ایک شہر ہے جو مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان ہے۔یہ قوم حضرت نوح علیہ السلام کے بعد ہوئی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ان کے نبی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وَاذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (الاعراف:۷۰) یعنی یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم کو نوحؑکی قوم کے بعد دنیا میں غلبہ عطا کیا۔پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوحؑکے ساتھ براہ راست جس قوم کا تعلق تھا اورجس نے قوم نوحؑکے بعد عرب میں غلبہ حاصل کیا وہ عاد لوگ تھے۔عاد کے متعلق قرآن مجیدکی پیشگوئی اور اس کا ظہور تورات میں جو بابل کی تباہی کا ذکر ہے اور جو قومِ نوحؑکی تباہی تھی معلوم ہوتا ہے اس تباہی کے بعد جو اقوام بابل سے نکل کر پھیلیں ان میں سے ایک قبیلہ جس نے بعد میں ترقی کی اس کا نام عاد تھا۔یہ قبیلہ نسلاً بڑا مضبوط اور جلد جلد پھیلنے والا تھا۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ہود علیہ السلام ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً (الاعراف:۷۰) یہاں پیدائش کے معنے نسل کے بھی ہیں اور جسم کی بناوٹ کے بھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قد آور جوان تھے اور ان کی نسل خوب ترقی کرتی تھی۔اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمالقہ کی نسلیں جو عرب کے شمال میں تھیں وہ انہی لوگوں کے بقایا میں سے تھیں۔پھر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس قبیلہ میں شرک کا مرض بھی کثرت سے تھا۔چنانچہ حضرت ہود علیہ السلام کہتے ہیں يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ(الاعراف:۶۶) اے میری قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا