تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 230

پڑے گا۔کیونکہ عربوں کے نزدیک ان کی پرانی تہذیب عاد قوم کی مرہون منت تھی۔تیسرا قطعی ثبوت یہ ہے کہ یونانی جغرافیوں میں لکھا ہے کہ یمن میں زمانہ مسیح سے قبل ایک قبیلہ حاکم تھا جس کا نام ’’ایڈرامی ٹائی‘‘ تھا۔اور یہ لفظ صاف بتا رہا ہے کہ یہ عادِ ارم کا بگڑا ہوا ہے۔یوروپین مصنفوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اس سے مراد عاد نہیں بلکہ حضر موت ہے مگر یہ خیال غلط ہے۔اوّل تو اس لئے کہ ’’ایڈرامی ٹائی‘‘ ایک قبیلے کا نام بتایا گیا ہے اور حضرموت شہر کا نام ہے دوسرے حضر موت کے لئے یونانی جغرافیوں میں ہی ایک علیحدہ لفظ موجود ہے۔چنانچہ جس جغرافیہ میں ’’ایڈرامی ٹائی‘‘ کا ذکر آتا ہے اسی جغرافیہ میں حضر موت کا نام ’’ایڈراموٹی ٹائی‘‘ (ADRAMOTITAI) لکھا ہے اور حضر موت کا یہ نام یونانی اور لاطینی دونوں کتب میں مذکور ہے معلوم نہیں یوروپین مصنفین نے ان دو فرقوں کے ہوتے ہوئے جب کہ ایک نام شہر کا ہے اور ایک قوم کا اور ایک کے ہجے اور ہیں اور دوسرے کے اور۔دونوں کو ایک کس طرح قرار دے دیا۔’’ایڈرامی ٹائی‘‘ کا لفظ جو عادِ ارم کے متعلق آتا ہے اصل میں ’’ایڈرامی ٹائی‘‘ ہے ٹائی جو آخر میں آتا ہے وہ یونانی میں نام کی علامت ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایڈ عاد ہے اور رامی ارم ہے اور اس نام سے ملتا ہوا کوئی قبیلہ عرب کا سوائے عاد ارم کے نہیں ہے ایک مشہور عیسائی مؤرخ اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ عاد کے متعلق مؤرخوں کی سینکڑوں صفحوں کی کتابیں اس سے زیادہ معلومات بیان نہیں کر سکیں جتنے معلومات قرآن کریم نے اپنے چند الفاظ میں بیان کر دیئے ہیں۔جس قدر قدیم روایات اس سلسلہ میں بیان کی جاتی ہیں ان کو دیکھنے کے بعد انسان صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ پرانی تاریخوں میں عاد ارم کے متعلق جس قدر باتیں بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب لغو اور فضول ہیں سوائے اس حصہ کے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔یہ عیسائی مؤرخ شدید دشمنِ اسلام ہے مگر عاد ارم کی تاریخ کے متعلق قرآن کریم کی فضیلت کا اقرار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے (دیکھو العرب قبل الاسلام مصنفہ جرجی زیدان الجزء الاوّل صفحہ۶۳،۶۴) قرآن مجید میں عاد کے حالات قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ بہت طاقتور تھا چنانچہ اگلی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ اس زمانہ تک اتنی طاقت کی کوئی قوم دنیا میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ احقاف میں رہتے تھے۔احقاف کے عرب میں دو علاقے ہیں ایک وہ علاقہ ہے جو جنوبی احقاف کہلاتا ہے یہ یمن سے شروع ہو کر صنعاء کے نیچے نیچے عدن سے اوپر مشرق کی طرف کو چلا گیا ہے پھر وہاں سے پھیلتا ہوا شمال کی جانب کو نکل گیا ہے۔دوسرا علاقہ شمالی احقاف ہے جو بصریٰ سے