تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 224

کے نام پر احمدی بھی مرزائی کہلانے لگ گئے ہیں اور یا پھر لوگ ہماری جماعت کے دوستوں کو مولوی کہتے ہیں جس کے معنے ہیں علم والے مگر عجمی کا لفظ عرب میں ہمیشہ تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اور عربی زبان میں اس کے معنے ہوتے ہیں اَن پڑھ اور جاہل لوگ۔پس انہیں تو اپنے علاقہ میں اَن پڑھ اور جاہل کہا جاتا ہے اور یہاں احمدیوں کو مولوی کہا جاتا ہے جس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ علم والے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترقی کا صحیح مقام ابھی ہماری جماعت کو حاصل نہیں ہوا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ساری دنیا فتح کر لی ہے مگر ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ ہمارا ایک مرکز ہونا، ہماری جماعت کا دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل جانا، ہزاروں آدمیوں کا اپنے وطنوں کو چھوڑ کر قادیان میں ہجرت کر کے آ جانا اور ہمارا اپنی تعداد اور اپنے علم میں روز بروز بڑھتے جانا یہ اس بات کی علامات ہیں کہ ہم ایک دن ساری دنیا کو انشاء اللہ فتح کر لیں گے۔اس وقت اگر قادیان کے محلوں اور اس کی پرانی اور نئی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو سوائے ہمارے کہ ہم قادیان کے اصل باشندے ہیں اور سوائے محلّہ ارائیاں میں رہنے والے چند لوگوں کے کہ جن کی مجموعی تعداد کسی صورت میں بھی دو تین سو سے زیادہ نہیں ہو گی باقی سب کے سب وہ لوگ ہیں جو باہر سے ہجرت کر کے قادیان آئے۔میں سمجھتا ہوں سو احمدیوں میںسے صرف ڈیڑھ فیصدی قادیان کے اصل باشندے ہیں باقی سب کے سب وہ لوگ ہیں جو باہر سے آئے ہیں۔پھر ان باہر سے آنے والوں میں کوئی افغانستان سے آیا ہے کوئی برما سے آیا ہے کوئی مالابار سے آیا ہے کوئی سیلون سے آیا ہے کوئی سندھ سے آیا ہے کوئی بنگال سے آیا ہے۔اسی طرح اور بیسیوں علاقے ہیں جہاں کے رہنے والے قادیان میں پائے جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر یہ دیکھا جائے کہ قادیان میں کہاں کہاں سے لوگ آئے ہوئے ہیں تو اتنے مختلف مقامات سے آئے ہوئے لوگ ثابت ہوں گے کہ لاہور میں بھی اتنے مختلف مقامات کے لوگ موجود نہیں ہوں گے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہے اور اس الہام کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا کہ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ (تذکرہصفحہ ۴۸،۴۹) لوگ تیرے پاس دور دراز سے آئیں گے۔پھر خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو شاخ درشاخ اس طرح پھیلا دیا ہے کہ ہر قسم کے کارکن ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں۔اگر ایک طرف زمیندار طبقہ ہماری جماعت میں پایا جاتا ہے تو دوسری طرف تاجروں کا بھی ایک کثیر حصہ ہماری جماعت میں موجود ہے۔اسی طرح اگر عربی دان ہماری جماعت میں کثرت سے پائے جاتے ہیں تو انگریزی دان لوگوں کی بھی ہماری جماعت میں کمی نہیں ہے۔غرض ہر طبقہ اور ہر شعبہ میں ہماری جماعت پھیل رہی ہے۔اور ہر قسم کے کارکن ہماری جماعت کو میسر آ رہے ہیں مگر بہائیوں کو یہ بات نصیب نہیں۔